data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جماعت اصلاح المسلمین سندھ کی سہ ماہی ترجیحات پر ضلعی صدر خلیفہ پروفیسر غلام قادر لاکھو طاہری کی زیر صدارت مرکز الطاہرریزیڈنسی ہٹڑی بائی پاس حیدرآباد کی نو منتخب برانچزکے عہدیداران کے اعزاز میں تربیتی ورکشاپ اور استقبال رمضان کے موضوع پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز ضلعی جنرل سیکرٹری محمد نسیم خان طاہری نے تلاوت کلام پاک سے کیا جبکہ نعت و منقبت شریف کے نذرانے خلیفہ اعجاز حیدر میمن طاہری معاون صدرنے پیش کئے، ضلعی صدر خلیفہ پروفیسر غلام قادر لاکھو طاہری نے تنظیمی لیکچر دیا جبکہ علامہ مولانا محمد طاہر طاہری دامت برکاتہم العالیہ نے رمضان المبارک میں روزہ،زکواۃ اور فطرہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔صوبائی جنرل سیکریٹری خلیفہ مخدوم اعظم طاہری،جوائنٹ سیکریٹری خلیفہ غضنفر علی جوکھیو طاہری،معاون فنانس سیکریٹری خلیفہ پروفیسر خالد رسول طاہر نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ، اس موقع پر ضلع حیدرآباد کے تمام خلفا کرام، جمیعت علما ئے طاہریہ ،روحانی طلبہ جماعت کے عہدید اران نے بھی بھرپور شرکت کی، پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کی لنگر طاہریہ سے تواضع کی گئی۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود