روس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس میں اسنیپ چیٹ اور ایپل کی وڈیو کالنگ سروس پر پابندی عائد کردی گئی ۔خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے بتایا کہ اسنیپ چیٹ اور ایپل کی وڈیو کالنگ سروس کو مبینہ طور پر دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کچھ گروہ اسنیپ چیٹ کی خفیہ چیٹس اورغائب ہونے والے میسجز کا فائدہ اٹھا کر رابطے میں رہ رہے تھے، جس کے بعد اس ایپ کو ملک میں بلاک کر دیا گیا۔ اسی کے ساتھ روس نے ایپل کی ویڈیو کالنگ سروس فیس ٹائم کو بھی بند کردیا ہے۔حکام کے مطابق بعض غیر منظور شدہ بیرونی مواصلاتی ذرائع سیکورٹی ایجنسیوں کے نگرانی سسٹم سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل روس گوگل، یوٹیوب، میٹا کی مختلف سروسز، واٹس ایپ اور ٹیلیگرام پر بھی پابندیاں عائد کرچکا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان مسلسل اقدامات کے بعد ملک کے اندربین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمزتک عام صارفین کی رسائی مزید محدود ہو گئی ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیرہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔