پاک فوج ملک میں باکسنگ کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، باکسر عامر خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کا کہنا ہے کہپاک فوج پورے ملک میں باکسنگ کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہمیرا خواب تھا پاکستان میں اس طرح کا بڑا باکسنگ ایونٹ کرواؤں آج وہ پورا ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہپاک فوج نے اس میگا ایونٹ کو کامیاب بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
باکسر عامر خان نے کا مزید کہنا تھا کہ اگر ٹیلنٹ کو صحیح طریقے سے پروموٹ کیا جائے تو پاکستان کے باکسرز دنیا میں نام کما سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں باکسنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے، اسے پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، میں پاکستانی باکسنگ ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں
عامر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان باکسرز عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس شاندار کھیلوں کے ایونٹ کے انعقاد پر بہت فخر ہونا چاہیے، میں یہاں آکر بہت خوش ہوں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، فافن
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے 23 نومبر کے ضمنی انتخابات سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ ضمنی الیکشن مجموعی طور پر مناسب طریقے سے منظم تھے، مبصرین نے پولنگ بوتھوں پر انتخابی عمل کو منظم اور پرامن پایا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیاں سامنے آئیں، نتائج کی شفافیت میں خلا اور تشویشناک حد تک کم ووٹر ٹرن آؤٹ سامنے آیا۔
فافن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابی مہم کی پابندیوں پر کمزور عمل درآمد ایک مسلسل مسئلہ رہا، مشاہدے کے 238 پولنگ اسٹیشنوں کے قریب کم از کم 465 سیاسی جماعتوں کے کیمپس دیکھے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 184 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کو نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جا رہی تھی، 98 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں بیلٹ بکس کے تمام 4 مطلوبہ سیل درست حالت میں پائے گئے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 96 فیصد مشاہدہ بوتھوں میں سیکریسی اسکرین درست طور پر نصب تھیں، مبصرین نے پولنگ بوتھس پر پولنگ کو منظم اور پُرامن پایا۔
رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران نے بیلٹ پیپر جاری کرنے کے درست طریقہ کار پر عمل کیا، مشاہدے کے 29 فیصد بوتھوں پر پریذائیڈنگ افسران نے پہلے سے بیلٹ پیپر پر دستخط کیے ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مشاہدے کے 28 فیصد بوتھوں پر بیلٹ پیپر پہلے سے مہر شدہ تھے، یہ عمل غیرقانونی نہیں تاہم بیلٹ کے غلط استعمال کے خدشات بڑھا سکتے ہیں۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ 6 مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیا، مشاہدہ کے 19 فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 کو باہر بھی آویزاں نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 19 فیصد اسٹیشنوں پر فارم 46 پولنگ ایجنٹس کو نہیں دیا گیا، 43 فیصد مشاہدہ پولنگ اسٹیشنوں پر پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس سے فارمز پر دستخط نہیں کروائے۔
فافن رپورٹ میں کہا گیا کہ مجموعی ٹرن آؤٹ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے 23 فیصد تک کم رہا، صرف 1 حلقہ ایسا تھا، جہاں ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق 97 فیصد پولنگ ایجنٹس نے پولنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا، گنتی کے بعد انٹرویو کیے گئے تمام 137 پولنگ ایجنٹس نے گنتی کے عمل پر اطمینان ظاہر کیا۔