کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2026 GMT
بگوٹا(نیوز ڈیسک) کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک طیارہ ٹیک آف کے دوران اچانک گر کر تباہ ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد حادثے کا شکار ہوا، جس کے باعث اس میں سوار تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
کولمبیا کے فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سیسنا 206 تھا۔
حکام کے مطابق طیارہ وسطی کولمبیا کے علاقے میٹا کے دارالحکومت ویلاویسینسیو سے لا ماکارینا کی جانب اڑان بھر رہا تھا تاہم ٹیک آف کے دوران نامعلوم وجوہات کی بنا پر کنٹرول کھو بیٹھا اور زمین پر جا گرا۔
حادثے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی پروٹوکول نافذ کر دیے اور تحقیقاتی ٹیم کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا، ٹیم طیارے کے ملبے، تکنیکی شواہد، موسم کی صورتحال اور دیگر اہم پہلوؤں کا جائزہ لے گی تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
فضائی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے جبکہ طیارے کی تکنیکی حالت اور پرواز سے قبل کی تیاریوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کسی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا تاہم تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔
مقامی انتظامیہ نے ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: حادثے کا شکار کے مطابق
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔