اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امریکی صدر ڈونلڈ نیتن یاہو امریکا اور اسرائیل کے تعلقات اور ایران کے میں اسرائیل اسرائیل کی امریکا میں امریکی صدر اسرائیل کو کے درمیان امریکا کے نیتن یاہو کہ امریکا جا رہا ہے کے مطابق کے خلاف کے ساتھ رہی ہے کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل