شدید دھند، موٹروے ایم 11 اور ایم 3 کے متعدد حصے ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
لاہور:
شدید دھند کے باعث لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم 11 اور موٹروے ایم 3 کے مختلف حصوں کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ترجمان سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق لاہور سیالکوٹ موٹروے کو حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث بند کیا گیا، جبکہ موٹروے ایم 3 فیض پور سے رجانہ تک دھند کی شدت کے سبب ٹریفک کے لیے بند ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹرویز کی عارضی بندش کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دھند میں ڈرائیونگ نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ حدِ نگاہ کم ہونے سے حادثات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
شدید دھند کے باعث موٹر وے ایم 11 ٹریفک کے لیے بند
شدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو دن کے اوقات کو ترجیح دیں۔
ترجمان کے مطابق دھند کے موسم میں صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ صورتحال بہتر ہوتے ہی موٹرویز کو مرحلہ وار ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ روانگی سے قبل موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کر کے تازہ صورتحال معلوم کر لیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ٹریفک کے لیے بند موٹروے ایم دھند کے کے باعث
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔