پاکستان مخالف بھارتی فلم ’دھریندر‘ ریلیز سے قبل ہی تنازعات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کے مشہور اداکار رنویر سنگھ کی نئی فلم ’دھریندر‘ ریلیز سے چند روز قبل قانونی تنازع کا شکار ہوگئی۔
دہلی ہائی کورٹ میں مرحوم میجر موہت شرما کے خاندان نے درخواست دی ہے کہ فلم کی ریلیز فوری طور پر روکی جائے کیونکہ ان کے مطابق فلم بظاہر میجر شرما کی زندگی اور خفیہ مشنز سے متاثر لگتی ہے، اس فلم کیلئے انکے خاندان کی اجازت حاصل نہیں کی گئی۔
درخواست میں کہا گیا کہ اگر فلم میں حقیقی زندگی یا مشنز کے عناصر شامل ہیں تو یہ مرحوم کے بعد کے شخصی حقوق اور خاندان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے اور ممکنہ طور پر قومی سلامتی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
فلم کے ڈائریکٹر ادیتیہ دھڑ نے فوری طور پر وضاحت کی کہ فلم کا میجر شرما سے کوئی تعلق نہیں اور مستقبل میں کسی بھی بایوپک کے لیے خاندان اور بھارتی فوج کی اجازت حاصل کی جائے گی۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بھی اس فلم پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
نورین اسلم نے بھارتی فلم سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں چوہدری اسلم کے کردار اور رحمٰن ڈکیت کو ہیرو دکھانے اور سیاسی جماعت پی پی پی کی مبہم عکاسی کی گئی ہے۔ نورین اسلم نے خبردار کیا کہ اگر فلم میں چوہدری اسلم کے خلاف کوئی پروپیگنڈا کیا گیا تو وہ قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہیں۔
فلم میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، اور سنجے دت اہم کرداروں میں ہیں۔ فلم کی ریلیز 5 دسمبر کو متوقع ہے لیکن موجودہ قانونی صورتحال کی وجہ سے فلم کی ریلیز غیر یقینی کا شکار ہے۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت مخالف مؤقف میں بڑا اعلان، سکھ فار جسٹس کی پاک فوج میں شمولیت کی پیشکش
پاکستان میں سکھ کمیونٹی نے بھارت کی جارحیت کے خلاف ایک واضح اور تاریخی موقف اختیار کیا ہے۔ سکھ تحریک ’سکھ فار جسٹس‘نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سے اپیل کی ہے کہ بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے تاکہ وہ سندھ کی سرزمین کی حفاظت میں حصہ لے سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
سکھ فار جسٹس (SFJ) کے قانونی مشیر سکھ فار جسٹس نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے سندھ پر قبضے کی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری طور پر سکھوں کے لیے خصوصی بھرتی کا راستہ کھولنا ہوگا تاکہ وہ سندھ کے دفاع کے لیے پاک فوج میں شامل ہو سکیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج سکھ رضاکاروں کی خصوصی بھرتی کی اجازت دے، پاک فوج کے کمانڈ کے تحت ایک وقف شدہ سکھ دفاعی یونٹ تشکیل دے اور اس یونٹ کو خصوصی طور پر سندھ کے دفاع کے لیے تعینات کرے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب پولیس کے اہلکار کا سریلی آواز میں عارفانہ کلام، سکھ یاتریوں کو رُلا دیا
سکھ فار جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ دنیا بھر کے ہزاروں سکھ رضاکار تیار ہیں کہ پاکستان کے باضابطہ اعلان اور بھرتی کے پروٹوکول کے بعد فوراً شامل ہو جائیں۔
اس پوزیشن کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے بین الاقوامی قوانین پر رکھی گئی ہے، جو فوجیوں کو ضمیر کی بنیاد پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کرنے کا حق دیتا ہے، اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیٹی کے مطابق یہ حق ایسے افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے جو غیر منصفانہ جنگوں یا سیاسی و نظریاتی آپریشنز میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیے جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
راجناتھ سکھ سکھ فار جسٹس سندھ