کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔

Canada has turned into an Indian colony!!!!

Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.

We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7

— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل

اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔

کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔

کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا کینیڈا کے کینیڈا کی کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر