ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2026 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔