شہزادہ چارلس کے بچپن میں کاٹے گئے بال نیلامی کے لیے پیش، نائی نے قیمت کتنی لگائی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
برطانوی شاہی خاندان کی نایاب یادگاروں میں ایک منفرد اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں کنگ چارلس کے بچپن کے بال نیلامی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
یہ بال 1960 کی دہائی کے اوائل میں شاہی نائی جارج کرسپ نے اُس وقت کاٹے تھے جب نوجوان چارلس ابھی شاہی ذمہ داریوں، ڈیانا یا کمیلا کے عہد سے بہت دور تھے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے سے بنا فن یا سرمایہ داری پر طنز؟ دنیا کا مہنگا ترین ٹوائلٹ نیلامی کے لیے تیار
پال فریزر کلیکٹیبلز کی جانب سے پیش کی گئی اس یادگار کی قیمت 7,995 پاؤنڈ رکھی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کنگ چارلس سوم کی سب سے زیادہ نجی نوعیت کی یادگار ہے۔ یہ بال آپ کو بادشاہ کی شخصیت کے سب سے قریب لے جاتے ہیں۔
نیلامی کے اس مجموعے میں صرف بال ہی شامل نہیں بلکہ کنگ چارلس کے ہاتھ سے لکھی گئی ایک کرسمس کارڈ بھی موجود ہے، ساتھ ہی شاہی نائی جارج کرسپ کی قینچی اور کنگھی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہیکرز برطانوی شاہی خاندان کی ویب سائٹ تک بھی جاپہنچے
رپورٹ کے مطابق جارج کرسپ نہ صرف جارج ششم کے نائی تھے بلکہ 1952 کے بعد ملکہ الزبتھ دوم کے بھی قابلِ اعتماد ہیئر ڈریسر رہے۔ 1960 کی دہائی میں وہ باقاعدگی سے میفر کے ٹرمپرس سے بکھنگھم پیلس جاتے تھے تاکہ نو عمر چارلس کے گھنے سیاہ بال تراش سکیں۔
کنگھی پر کینٹ آف لندن کا شاہی نشان بھی موجود ہے، جو شاہی خاندان کی پسندیدہ برانڈ سمجھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بال شاہی خاندان کنگ چارلس نائی.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بال شاہی خاندان کنگ چارلس شاہی خاندان کنگ چارلس نیلامی کے چارلس کے کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سموگ تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دوران سماعت ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ناصر باغ میں درخت کاٹے جارہے ہیں، اس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بار بار کہنے کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں، حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے، ناصر باغ کے قریب درخت کاٹے جارہے ہیں یہ کیا معاملہ ہے؟
فواد چودھری کی 5 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع
وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ کوئی درخت نہیں کاٹے جا رہے، وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ ہمارا سختی سے حکم ہے کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا، وکیل ایل ڈی اے نے مزید کہا کہ ناصر باغ میں زیر زمین پارکنگ بنا رہے ہیں، وکلاء کے کےلیے پارکنگ ایریا بنا رہے ہیں۔
جسٹس شاہد کریم نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ہدایت کی کہ ناصر باغ کا دورہِ کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، مجھے جو تصاویر ملی ہیں اس میں تو درخت کاٹے ہوئے ہیں، ناصر باغ کی بڑی تاریخی حیثیت ہے۔
وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ ہم نے درخت نہیں کاٹے بلکہ درختوں کو ٹرانسپلانٹ کیا ہے، عدالت نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے اس عدالت سے گزشتہ سات سال میں جو حکم ہوئے اسے حکومت تسلیم کر رہی ہے،سکول بسز کے حوالے سے بھی ہمارا حکم تھا حکومت اس طرف نہیں آرہی۔
بیوی اور بیٹی کے مبینہ اغواء کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ، ڈی ایس پی عثمان حیدر معطل
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آج میں نے راستے میں دیکھا کہ پنجاب یونیورسٹی کی بسیں دھواں چھوڑ رہی تھیں، جامعہ پنجاب کی بسوں کی انسپکشن کریں اور دھواں چھوڑنے والی بسیں بند کریں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پانی کے میٹرز کا کیا بنا ہے، وکیل واسا نے بتایا کہ واسا نے اب تک 1300 میٹر خریدے ہیں، جوہر ٹاؤن میں260 میٹرز لگائے جا چکے ہیں، عدالت نے پوچھا کہ یہ میٹرز کہاں سے خریدے گئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ یہ سب امپورٹڈ میٹرز ہیں، ہم نے اپنے سورسز سے پانچ سو ملین کا فنڈ واٹر میٹرز کے لیے مختص کر دیا ہے۔
میں گھر میں بھائی اور بہنوئی سے بھی پردہ کرتی ہوں : ڈاکٹر نبیحہ علی خان
عدالت نے قرار دیا کہ کمرشل جگہوں پر پہلے واٹر میٹرز لگائیں، واسا کے وکیل نے آگاہ کیا کہ ابھی پائلٹ پراجیکٹ چلا رہے ہیں تاکہ ڈیٹا کولیکشن کو ایک بار دیکھ لیں، عدالت نے کہا کہ ایک بڑے مقصد کے لیے ایک اچھا قدم ہے، جب سب جگہوں پر میٹرز لگ جائیں گے تو لوگ خود پانی بچائیں گے، ڈی ایچ اے نے اس معاملے میں اچھا کام کیا ہے، انہوں نے پہلے ہی یہ میٹرز لگا دیئے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ واسا سے کہیں کہ لاہور میں پانی کی سطح کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں، جاننا ضروری ہے کہ لاہور کا زیر زمین پانی کا لیول مزید نیچے تو نہیں جا رہا؟
شہباز شریف برطانیہ کے مختصر نجی دورے پر لندن پہنچ گئے
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پارکس میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہئے، تعمیراتی کام کبھی بھی ماحول دوست نہیں ہو سکتا، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کر دی۔