شریف خاندان پہلے اپنا سرمایا پاکستان لائے!
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم کو خوش خبری سنائی ہے کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد دستخط ہو جائیں گے پاکستان ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، بحرین کے سرمایہ کار زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی میں سرمایہ لگائیں، ہر ممکن سہولت دیں گے۔ منامہ میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بحرین میں برادرانہ تعلقات ہیں، آج باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے یہاں موجود ہوں، بحرین آنے کا مقصد اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے، ہمارے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، بحرین میں موجود پاکستانی تمام شعبوں میں عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں، دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں مزید پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں دونوں ملک ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھول سکتے ہیں، اب وقت ہے ہم مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کریں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فی صد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بحرین کے پاس عالمی مہارت اور معاشی تجربہ ہے، پاکستان بحرین کے ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور تعاون کا خواہاں ہے، بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ (آزاد تجارتی معاہدہ) جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں، یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔ وزیر اعظم آج کل خلیجی ریاست بحرین کے دورے پر ہیں، بحرین خلیج تعاون کونسل کا رکن ہے اس کے علاوہ سعودی عرب، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک بھی کونسل میں شامل ہیں یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم کے بقول خلیج تعاون کونسل سے آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔ یہ معاہدہ فریقین خصوصاً پاکستان کے ماہرین معیشت و تجارت کی دیرینہ خواہش رہا ہے تاہم مختلف وجوہ کی بنا پر یہ گزشتہ اکیس برس کی طویل مدت یعنی 2004ء سے التوا کا شکار چلا آ رہا ہے دو سال قبل اس ضمن میں ایک عبوری معاہدہ بھی طے پایا تھا اب اگر یہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کا پہلا معاہدہ ہو گا جس کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی ہو گی اور خلیجی ممالک کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو آسان اور محفوظ بنایا جائے گا۔ اس معاہدہ سے رکن ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے شعبوں کو فروغ حاصل ہو گا۔ خصوصاً توانائی، صحت، سلامتی، نقل و حمل، خوراک و زارعت، ماحولیات اور تعلیم و ثقافت جیسے شعبوں میں پہلے سے جاری تعاون کو بہتر بنانے کے مواقع دستیاب ہو سکیں گے۔ آزاد تجارت کا معاہدہ تکمیل کو پہنچنے کی صورت میں مشرق وسطیٰ کے ممالک سے قائم پاکستان کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو بھی مزید استحکام حاصل ہو گا یہ معاہدہ فریقین کے دو طرفہ مفادات کے تحفظ و مضبوطی کا بھی باعث بنے گا۔ مئی کی پاکستان اور بھارت کشیدگی اور پھر مختصر جنگ کے بعد پیدا شدہ صورت حال کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خلیجی ممالک دفاعی اور قومی سلامتی سے متعلق امور میں پاکستان سے تعاون بڑھانے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ چند ہفتے قبل ہونے والا پاکستان کا مشترکہ دفاع کا معاہدہ اس ضمن میں نہایت اہم اور مثبت پیش رفت ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں کو بھی پاکستان اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی جانب متوجہ کیا ہے یہ صورت حال پاکستان کے لیے یقینا حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منامہ میں بحرین کی کاروباری برادری سے خطاب کے دوران وہاں کے سرمایا کاروں کو پاکستان آنے اور یہاں مختلف شعبوں میں سرمایا کاری کی دعوت بھی دی، وزیر اعظم اپنے ہر بیرونی دورے میں اس ملک کے سرمایا کاروں کو پاکستان میں سرمایا کاری کی دعوت دینا نہیں بھولتے اور ان کی طرف سے ان سرمایا کاروں کو پاکستان میں ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کی بھتیجی محترمہ مریم نواز شریف بھی اپنے ہر بیرونی دورے میں اپنے چچا کی تقلید کرتی اور بیرونی سرمایا کاروں کو پاکستان میں سرمایا کاری پر آمادہ کرنے کی بھر پور کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے برادر بزرگ اور محترمہ مریم نواز کے والد بزرگوار سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی بھی اپنے وزارت عظمیٰ کے دور میں تسلسل سے یہ روایت رہی تھی کہ وہ اپنے بیرونی دوروں میں وہاں کے سرمایا کاروں کو پاکستان میں سرمایا کاری پر آمادہ کرنے کے لیے اپنی تمام قوتیں صرف کرتے رہے ہیں۔ ہمارے حکمران شریف خاندان کی ان کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بیرون ملک خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا و چین وغیرہ کے سرمایا کاروں کے خاصے بھاری بھر کم اور مختصر وفود نے پاکستان کے دورے بھی کیے ہیں اور ان میں پاکستان میں خاطر خواہ سرمایا کاری کے وعدے وعید اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط وغیرہ بھی ہوتے رہے ہیں مگر جب ملک میں بیرونی سرمایا کاری کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ تاحال بات وعدوں اور ارادوں سے آگے نہیں بڑھ سکی اور اس ضمن میں عملی طور پر کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ اس کے برعکس ایک ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ خود پاکستانی سرمایا کاروںکی ایک قابل لحاظ تعداد نے یہاں کے حالات سے تنگ آ کر پاکستان سے اپنا سرمایا بیرون ملک منتقل کر لیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ شریف خاندان نے خود پاکستان سے باہر بھاری سرمایا کاری کر رکھی ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف محترمہ مریم نواز یا میاں محمد نواز شریف کی باتوں میں اثر بھلا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ اگر وہ واقعی پاکستان میں بیرونی سرمایا کاری میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اپنے خاندان کا سرمایا پاکستان لانا ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ کا حکم بڑا واضح ہے کہ ’’وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت نا پسند ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں‘‘۔ (سورۂ ص)
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایا کاروں کو پاکستان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف میں سرمایا کاری کے سرمایا کاروں شہباز شریف نے پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کے پاکستان ا کا معاہدہ تعلقات کو تعاون کو بحرین کے کے ساتھ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور خلیج تعاون کونسل میں جلد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ہوں گے: وزیراعظم
پاکستان اور خلیج تعاون کونسل میں جلد آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ہوں گے: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز
منامہ: (آئی پی ایس) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بردار ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے، خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ہوں گے۔
منامہ میں کاروباری برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بحرین میں بردارانہ تعلقات ہیں، آج باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لئے یہاں موجود ہوں، بحرین آنے کا مقصد اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے، ہمارے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، بحرین میں موجود پاکستانی تمام شعبوں میں عظیم خدمات دے رہے ہیں، دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں مزید پیشرفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان بردار ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں دونوں ملک ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھول سکتے ہیں، اب وقت ہے ہم مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بحرین کے پاس عالمی مہارت اور معاشی تجربہ ہے، پاکستان بحرین کے ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور تعاون کا خواہاں ہے، بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں، یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر بحرین کے عوام اور قیادت سے اظہار تشکر کیا۔
بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہیں، وزیراعظم پاکستان کی موجودگی ہمارے رشتوں کی تجدید ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں ڈانس پارٹیوں اور مساج سنٹروں کے نام پر فحاشی،21 خواتین،19 مرد گرفتار اسلام آباد میں ڈانس پارٹیوں اور مساج سنٹروں کے نام پر فحاشی،21 خواتین،19 مرد گرفتار ہم نے ڈکٹیٹرشپ کے دوران آنکھ کھولی، اب تو ججز بھی نہیں رہے، جسٹس محسن اختر کیانی کے اہم ریمارکس وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ، صدر ٹرمپ نے بڑا حکم جاری کردیا نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی وفاقی آئینی عدالت کا گندم کوٹہ سے متعلق کیس میں اہم حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: مشرف رسول تنازعہ کیس میں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم