بھنبور، آتشزدگی کے واقعے میں آثار قدیمہ کا مقام خاکستر
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کراچی:
عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والے قدیم شہر بھنبور میں نامعلوم افراد نے آگ لگا دی،آتش زدگی کے واقعے میں سمندری گھاٹی کے کنارے آثار قدیمہ کا مقام جل کر خاکستر ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ کے ضلع ٹھٹہ میں دریائے سندھ کے کنارے آباد پہلی صدی قبل مسیح کے تباہ شدہ تاریخی شہر بھنبور میں نامعلوم افراد نے آگ لگا دی۔
واقعے کے نتیجے میں آثار قدیمہ اور ثقافتی ورثہ کی حیثیت رکھنے والے شہر میں قدرتی جھیل کے کنارے جھاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئی۔
خوش قسمتی سے قریب موجود دنیا کی قدیم ترین اور جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد، قدیم مکانات کے آثار اور دیگر تاریخی مقامات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حفاظتی عملے کی آمد پر نامعلوم ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واضح رہے کہ پہلی صدی قبل مسیح کے شہر بھنبور کو 10ویں صدی میں از سر نو تعمیر کیا گیا تھا۔
سندھ کی مشہور لوگ داستان سسی پنوں کے حوالے سے معروف اس شہر کو اقوام متحدہ کا ذیلی ادارے یونیسکو 2004 میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے چکا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔