data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-03-4
(قوی امید ہے کہ آج چاند نظر آجائے گا اور ہم پہلی تراویح ادا کریں گے۔ )
آج پہلی تراویح میں پہلا پارہ مکمل اور دوسرے پارے کے پہلے چوتھائی حصے کی تلاوت کی گئی، جو کہ سورہ الفاتحہ اور سورہ البقرہ کی 176 آیات پر مشتمل ہے۔ الفاتحہ مکی سورت ہے اور الفاتحہ کے معنی ابتداء و آغاز کے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں اس سورت کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں، جیسے کہ آفات و مصائب اور پریشانیوں سے اللہ کی حفاظت میں آجانا۔ یہ سورت ہر نماز کا لازمی جز ؤہے، جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔ اس سورت کو دعا کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ مسلم شریف میں حدیث قدسی ہے کہ ’’میں (اللہ) نے نماز کو اپنے اور بندے کے مابین دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے، اور میرے بندے نے جو بھی مانگا اسے عطا کردیا جائے گا‘‘۔ بندۂ مومن اس سورت کی ابتدائی تین آیات میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، جو اللہ کے لیے ہے۔ اس کے بعد اپنی اطاعت و کمزوری کا اعلان کرتے ہوئے مدد کا طالب ہوتا ہے، اس کے جواب میں اللہ فرماتا ہے کہ یہ آیت میرے اور بندے کے درمیان ہے، بندہ جو بھی مانگے کا میں اسے دوں گا۔ اس کے بعد سورت کے آخری حصے میں بندہ اللہ سے اپنے لیے ہدایت مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندے کو وہ سب کچھ دے دیا جس کا اس نے مجھ سے سوال کیا۔
سورہ البقرہ مدنی سورت ہے جو مدینہ کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی۔ اس سورت کے آغاز میں ہی حروف مقطعات لاکر اللہ تعالیٰ نے اس کلام کی عظمت کی طرف اشارہ کیا کہ اس میں چند ایسی باتیں بھی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خاص ہیں۔ کوئی بھی ان الفاظ کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور نبی کریمؐ نے بھی الفاظ کے مفاہیم بیان نہیں کیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے مابین ایک خاص کلام ہے۔ دوسری آیت میں سورہ الفاتحہ کی دعا کا جواب دیا گیا کہ یہ کتاب اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے سراسر ہدایت ہے۔ متقین کے اوصاف بیان کیے گئے کہ وہ بِن دیکھے صرف نبی اکرمؐ کے بتانے پر ان چیزوں (اللہ، فرشتے، وحی، جنات، جنت، جہنم وغیرہ) پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، انفاق کرتے ہیں، آپؐ اور آپ سے ماقبل انبیاؑ اور شریعتوں کو برحق مانتے ہیں، اور مرنے کے بعد کی زندگی پر ایمان لاتے ہیں۔
انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا، ایک وہ جو اللہ کا پیغام آنے کے بعد اس کو صدق دل کے ساتھ قبول کرتے ہیں، دوسرے وہ جو اس پیغام کا علی الاعلان انکار کرتے ہیں، اور تیسرے وہ جو کسی دباؤ یا غرض کی وجہ سے ظاہری ایمان لاتے ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہوتے۔ اس کے نتیجے میں تین مختلف طرز زندگی وجود میں آتے ہیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اللہ کی جانب سے تخلیق آدمؑ کے ذریعے سے زمین میں خلافت انسانی کا تذکرہ کیا گیا۔ فرشتوں نے ایک شبہہ ظاہر کیا کہ وہ کہیں زمین میں فساد نہ پھیلائے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم اور عقل و شعور کے ذریعے سے انسان کی فوقیت اور فضیلت کو ثابت کردیا۔ انسان کے لیے شیطان کی دشمنی کو بیان کیا گیا کہ وہ روز ازل سے تمہارا دشمن ہے، اسی نے تمہیں جنت سے نکلوایا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا تفصیلی ذکر اور ان کی احسان فراموشی کو بیان کیا۔ یہود و نصاریٰ کے اس دعوے کے تردید کی گئی کہ ’’ہم اللہ کے پسندیدہ اور چہیتے ہیں‘‘، اللہ کی رضا و خوشنودی کو اس پر کامل، غیر متزلزل اور خالص ایمان کے ساتھ مشروط کیا گیا۔
سیدنا ابراہیمؑ کی امامت، تعمیر کعبہ، شہر مکہ کے لیے امن و بہترین زرق کی دعا بیان کی گئی۔ اور ان کے ساتھ سیدنا اسماعیلؑ کا خصوصی نام لے کر ان کی دعا دہرائی گئی جس میں انہوں نے اللہ سے نبی کریمؐ کے لیے نبوت کی دعا کی۔ دوسرے پارے کے آغاز میں مسلمانوں کے قبلے کا بیت المقدس سے کعبۃ اللہ کی طرف تبدیلی کا ذکر ہے جسے تحویل قبلہ کہتے ہیں، اس حکم سے امامت کا منصب دائمی طور پر بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل کیا گیا۔ مسلمانوں کو نماز اور صبر کے ذریعے سے استعانت کا درس دیا گیا کہ دین کے راستے میں ان پر طرح طرح کی آزمائشیں آئیں گی۔ صفا اور مرویٰ پہاڑیوں کو شعار اسلام قرار دیا گیا کہ اس کے حقیقی وارث مسلمان ہیں نہ کہ یہود و مشرکین۔ دن و رات کے نظام، سمندروں میں کشتیوں، آسمان کے پانی اور ہوا ہوں جیسی عظیم نشانیوں کی طرف اشارہ کر کے اللہ کی الوہیت کی جانب متوجہ کیا گیا کہ یہ سب اسی خالق کے حکم کے تابع ہیں۔ مْردار، خون، خنزیر اور اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے نام پر نذر و نیاز کو حرام قرار دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اللہ تعالی کرتے ہیں کے ساتھ دیا گیا کیا گیا اللہ کی کے لیے کی دعا گیا کہ کی طرف کے بعد
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔