Jasarat News:
2026-06-03@06:14:55 GMT

شریف خاندان پہلے اپنا سرمایا پاکستان لائے!

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-03-2
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم کو خوش خبری سنائی ہے کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے مابین آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد دستخط ہو جائیں گے پاکستان ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، بحرین کے سرمایہ کار زراعت، آئی ٹی، معدنیات اور توانائی میں سرمایہ لگائیں، ہر ممکن سہولت دیں گے۔ منامہ میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بحرین میں برادرانہ تعلقات ہیں، آج باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے یہاں موجود ہوں، بحرین آنے کا مقصد اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے، ہمارے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، بحرین میں موجود پاکستانی تمام شعبوں میں عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں، دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں مزید پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں دونوں ملک ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھول سکتے ہیں، اب وقت ہے ہم مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کریں۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فی صد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بحرین کے پاس عالمی مہارت اور معاشی تجربہ ہے، پاکستان بحرین کے ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور تعاون کا خواہاں ہے، بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ (آزاد تجارتی معاہدہ) جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں، یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔ وزیر اعظم آج کل خلیجی ریاست بحرین کے دورے پر ہیں، بحرین خلیج تعاون کونسل کا رکن ہے اس کے علاوہ سعودی عرب، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک بھی کونسل میں شامل ہیں یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم کے بقول خلیج تعاون کونسل سے آزاد تجارت کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔ یہ معاہدہ فریقین خصوصاً پاکستان کے ماہرین معیشت و تجارت کی دیرینہ خواہش رہا ہے تاہم مختلف وجوہ کی بنا پر یہ گزشتہ اکیس برس کی طویل مدت یعنی 2004ء سے التوا کا شکار چلا آ رہا ہے دو سال قبل اس ضمن میں ایک عبوری معاہدہ بھی طے پایا تھا اب اگر یہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کا پہلا معاہدہ ہو گا جس کے نتیجے میں اشیاء اور خدمات پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح میں نمایاں کمی ہو گی اور خلیجی ممالک کی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو آسان اور محفوظ بنایا جائے گا۔ اس معاہدہ سے رکن ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے شعبوں کو فروغ حاصل ہو گا۔ خصوصاً توانائی، صحت، سلامتی، نقل و حمل، خوراک و زارعت، ماحولیات اور تعلیم و ثقافت جیسے شعبوں میں پہلے سے جاری تعاون کو بہتر بنانے کے مواقع دستیاب ہو سکیں گے۔ آزاد تجارت کا معاہدہ تکمیل کو پہنچنے کی صورت میں مشرق وسطیٰ کے ممالک سے قائم پاکستان کے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو بھی مزید استحکام حاصل ہو گا یہ معاہدہ فریقین کے دو طرفہ مفادات کے تحفظ و مضبوطی کا بھی باعث بنے گا۔ مئی کی پاکستان اور بھارت کشیدگی اور پھر مختصر جنگ کے بعد پیدا شدہ صورت حال کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ خلیجی ممالک دفاعی اور قومی سلامتی سے متعلق امور میں پاکستان سے تعاون بڑھانے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ چند ہفتے قبل ہونے والا پاکستان کا مشترکہ دفاع کا معاہدہ اس ضمن میں نہایت اہم اور مثبت پیش رفت ہے جس نے مشرق وسطیٰ کی دیگر ریاستوں کو بھی پاکستان اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کی جانب متوجہ کیا ہے یہ صورت حال پاکستان کے لیے یقینا حوصلہ افزا اور خوش آئند ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منامہ میں بحرین کی کاروباری برادری سے خطاب کے دوران وہاں کے سرمایا کاروں کو پاکستان آنے اور یہاں مختلف شعبوں میں سرمایا کاری کی دعوت بھی دی، وزیر اعظم اپنے ہر بیرونی دورے میں اس ملک کے سرمایا کاروں کو پاکستان میں سرمایا کاری کی دعوت دینا نہیں بھولتے اور ان کی طرف سے ان سرمایا کاروں کو پاکستان میں ہر ممکن سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی جاتی ہے۔ وزیر اعظم کی بھتیجی محترمہ مریم نواز شریف بھی اپنے ہر بیرونی دورے میں اپنے چچا کی تقلید کرتی اور بیرونی سرمایا کاروں کو پاکستان میں سرمایا کاری پر آمادہ کرنے کی بھر پور کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے برادر بزرگ اور محترمہ مریم نواز کے والد بزرگوار سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی بھی اپنے وزارت عظمیٰ کے دور میں تسلسل سے یہ روایت رہی تھی کہ وہ اپنے بیرونی دوروں میں وہاں کے سرمایا کاروں کو پاکستان میں سرمایا کاری پر آمادہ کرنے کے لیے اپنی تمام قوتیں صرف کرتے رہے ہیں۔ ہمارے حکمران شریف خاندان کی ان کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بیرون ملک خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا و چین وغیرہ کے سرمایا کاروں کے خاصے بھاری بھر کم اور مختصر وفود نے پاکستان کے دورے بھی کیے ہیں اور ان میں پاکستان میں خاطر خواہ سرمایا کاری کے وعدے وعید اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط وغیرہ بھی ہوتے رہے ہیں مگر جب ملک میں بیرونی سرمایا کاری کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ تاحال بات وعدوں اور ارادوں سے آگے نہیں بڑھ سکی اور اس ضمن میں عملی طور پر کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی بلکہ اس کے برعکس ایک ناقابل تردید حقیقت یہ بھی ہے کہ خود پاکستانی سرمایا کاروںکی ایک قابل لحاظ تعداد نے یہاں کے حالات سے تنگ آ کر پاکستان سے اپنا سرمایا بیرون ملک منتقل کر لیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ شریف خاندان نے خود پاکستان سے باہر بھاری سرمایا کاری کر رکھی ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف محترمہ مریم نواز یا میاں محمد نواز شریف کی باتوں میں اثر بھلا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ اگر وہ واقعی پاکستان میں بیرونی سرمایا کاری میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اپنے خاندان کا سرمایا پاکستان لانا ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ کا حکم بڑا واضح ہے کہ ’’وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت نا پسند ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں‘‘۔ (سورۂ ص)

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایا کاروں کو پاکستان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف میں سرمایا کاری کے سرمایا کاروں شہباز شریف نے پاکستان اور کہ پاکستان پاکستان کے پاکستان ا کا معاہدہ تعلقات کو تعاون کو بحرین کے کے ساتھ کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا