Islam Times:
2026-07-24@01:53:54 GMT

مسجد اقصیٰ میں تراویح کیلیے سمندر امڈ آیا

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

مسجد اقصیٰ میں تراویح کیلیے سمندر امڈ آیا

اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر غزہ کے زخم ابھی تازہ ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی کارروائیوں نے فلسطینیوں کے دلوں پر اداسی کی چادر تان رکھی ہے۔ ایسے میں رمضان کی پہلی رات آنسوؤں، دعاؤں اور امیدوں کا سنگم بن گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ مشرقی یروشلم کی فضا اس وقت ایمان کی حرارت سے بھر گئی جب اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود دسیوں ہزار مسلمان پہلی تراویح کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچ گئے۔ چاند نظر آنے کے ساتھ ہی جب رمضان المبارک کی آمد کا اعلان ہوا تو عاشقانِ رسولؐ کے قدم خود بخود قبلۂ اول کی جانب اٹھنے لگے۔

گلیوں، دروازوں اور چوکیوں سے گزرتے ہوئے وہ سب ایک ہی جذبے سے سرشار تھے—اللہ کے حضور جھکنے کا جذبہ۔ نمازیوں نے قبلہ اول کے احاطوں کو بھر دیا۔ قبلی مسجد کے اندر صفیں در صفیں بندھ گئیں، جبکہ سنہری گنبد والی ڈوم آف راک کے اطراف بھی عبادت گزاروں کا سمندر امنڈ آیا۔


عشاء اور تراویح کی نماز کی امامت امام و خطیب شیخ یوسف ابو سنینہ نے کروائی، اور ہر سجدہ گویا صبر، استقامت اور امید کی داستان سنا رہا تھا۔ اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر غزہ کے زخم ابھی تازہ ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی کارروائیوں نے فلسطینیوں کے دلوں پر اداسی کی چادر تان رکھی ہے۔ ایسے میں رمضان کی پہلی رات آنسوؤں، دعاؤں اور امیدوں کا سنگم بن گئی۔

یروشلم گورنریٹ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی حکام رمضان کی تیاریوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، مگر پابندیاں ایمان کے سیلاب کے آگے ٹھہر نہ سکیں۔ بزرگوں کی لرزتی دعائیں، بچوں کی معصوم آنکھیں اور نوجوانوں کا عزم سب نے مل کر یہ پیغام دیا کہ مسجدِ اقصیٰ صرف ایک عمارت نہیں، ایک زندہ عقیدہ ہے۔

 
پہلی تراویح کی رات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جب دلوں میں یقین کی شمع روشن ہو تو رکاوٹیں دیوار نہیں بن سکتیں۔ قبلۂ اول کی فضا میں گونجتی آمین کی صدائیں شاید دنیا کو یہ یاد دلا رہی تھیں کہ ایمان کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تراویح کی

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی