Islam Times:
2026-07-24@06:09:24 GMT

مسجد اقصیٰ میں تراویح کیلیے سمندر امڈ آیا

اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT

مسجد اقصیٰ میں تراویح کیلیے سمندر امڈ آیا

اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر غزہ کے زخم ابھی تازہ ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی کارروائیوں نے فلسطینیوں کے دلوں پر اداسی کی چادر تان رکھی ہے۔ ایسے میں رمضان کی پہلی رات آنسوؤں، دعاؤں اور امیدوں کا سنگم بن گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ مشرقی یروشلم کی فضا اس وقت ایمان کی حرارت سے بھر گئی جب اسرائیلی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود دسیوں ہزار مسلمان پہلی تراویح کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچ گئے۔ چاند نظر آنے کے ساتھ ہی جب رمضان المبارک کی آمد کا اعلان ہوا تو عاشقانِ رسولؐ کے قدم خود بخود قبلۂ اول کی جانب اٹھنے لگے۔

گلیوں، دروازوں اور چوکیوں سے گزرتے ہوئے وہ سب ایک ہی جذبے سے سرشار تھے—اللہ کے حضور جھکنے کا جذبہ۔ نمازیوں نے قبلہ اول کے احاطوں کو بھر دیا۔ قبلی مسجد کے اندر صفیں در صفیں بندھ گئیں، جبکہ سنہری گنبد والی ڈوم آف راک کے اطراف بھی عبادت گزاروں کا سمندر امنڈ آیا۔


عشاء اور تراویح کی نماز کی امامت امام و خطیب شیخ یوسف ابو سنینہ نے کروائی، اور ہر سجدہ گویا صبر، استقامت اور امید کی داستان سنا رہا تھا۔ اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، مگر غزہ کے زخم ابھی تازہ ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی کارروائیوں نے فلسطینیوں کے دلوں پر اداسی کی چادر تان رکھی ہے۔ ایسے میں رمضان کی پہلی رات آنسوؤں، دعاؤں اور امیدوں کا سنگم بن گئی۔

یروشلم گورنریٹ نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی حکام رمضان کی تیاریوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، مگر پابندیاں ایمان کے سیلاب کے آگے ٹھہر نہ سکیں۔ بزرگوں کی لرزتی دعائیں، بچوں کی معصوم آنکھیں اور نوجوانوں کا عزم سب نے مل کر یہ پیغام دیا کہ مسجدِ اقصیٰ صرف ایک عمارت نہیں، ایک زندہ عقیدہ ہے۔

 
پہلی تراویح کی رات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جب دلوں میں یقین کی شمع روشن ہو تو رکاوٹیں دیوار نہیں بن سکتیں۔ قبلۂ اول کی فضا میں گونجتی آمین کی صدائیں شاید دنیا کو یہ یاد دلا رہی تھیں کہ ایمان کو زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تراویح کی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا