data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی:  متحدہ عرب امارات میں رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد دبئی کی انتظامیہ نے گرانفروشوں کیلئے انتباہ جاری کر دیا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قیمتوں میں ہیرا پھیری پر ایک لاکھ درہم جرمانہ ہو گا۔

دبئی: دبئی میں رمضان المبارک کے دوران اشیائے ضروریہ پر گہری نظر رکھی جائے گی، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناجائز اضافے اور ہیرا پھیری کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق دبئی کی کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹیز نے رمضان سے قبل مختلف مارکیٹس اور تجارتی مراکز کے دورے شروع کر دیے ہیں تاکہ قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔چاول، دودھ، چینی، کوکنگ آئل اور دیگر بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کنزیومر پروٹیکشن حکام نے واضح کیا کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے ضروری اشیاء کی قیمتیں مقررہ حد سے زیادہ بڑھانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

تاجروں کو باقاعدہ وارننگ جاری کر دی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات کی مکمل پابندی کریں اور منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ عوام بھی قیمتوں میں اضافے یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کی صورت میں متعلقہ اداروں کو شکایت درج کرا سکتے ہیں جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکام کے مطابق اگر کسی تاجر یا کاروباری ادارے نے رمضان میں قیمتوں میں غیرقانونی رد و بدل کیا تو اس پر ایک لاکھ درہم (تقریباً 76 لاکھ پاکستانی روپے) تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قیمتوں میں

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ