حکمرانوں کے متضاد فیصلوں نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے، پاکستان عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اپنے مشترکہ بیان میں رہنماؤں نے کہا کہ چلان اور بھاری جرمانوں کے نام پر عوام کا استحصال جاری ہے اور ریاست ماں بننے کے بجائے ڈائن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان عوامی تحریک کراچی کے رہنماؤں نے شہر بھر میں رکشوں پر پابندی اور چالانوں کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو ’’غریب دشمن‘‘ اور ’’غیر سنجیدہ حکومتی پالیسی‘‘ قرار دے دیا ہے۔ رہنماؤں اسمعیل خلیل عارفی، عدنان روف انقلابی، مطیع الرحمٰن آسی اور بشیر خان مروت نے اپنے مشترکہ بیان میں سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں رکشوں پر پابندی لگانی تھی تو پھر رکشہ بنانے والی کمپنیوں کو لائسنس کیوں دیئے گئے؟ حکمرانوں کے متضاد فیصلوں نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے، رکشوں کی بندش سے بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت غریب کی غربت کا مذاق نہ اڑائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کمپنیوں کو رکشے بنانے اور فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف شاہراہوں پر پابندیاں لگا کر ہزاروں لوگوں کے روزگار کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ چلان اور بھاری جرمانوں کے نام پر عوام کا استحصال جاری ہے اور ریاست ماں بننے کے بجائے ڈائن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر رکشوں پر پابندی لگانی ہے تو سب سے پہلے متبادل روزگار فراہم کیا جائے اور عوام کیلئے مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے، بغیر متبادل دیئے پابندی عوام دشمن پالیسی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کراچی کے رہنماؤں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر رکشہ پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور غریب طبقے کے روزگار کو تحفظ دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔