کراچی کی 20 اہم شاہراہوں پر رکشوں کے داخلے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
شہر قائد کی 20 اہم شاہراہوں پر 1+2 اور 1+4 رکشوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں رکشوں کی پابندی کا دائرہ بڑھا کر مجموعی طور پر 26 مرکزی شاہراہوں تک کر دیا گیا ہے جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارش پر شہر میں رکشوں کی آمد و رفت محدود کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ شاہراہِ فیصل سے آئی آئی چندریگر روڈ تک رکشوں کی مکمل ممانعت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
شہر کی 20 سڑکوں پر رکشہ پابندی 18 اکتوبر سے 17 دسمبر 2025 تک مؤثر قرار دی گئی ہے جبکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلئے کمشنر کراچی نے سیکشن 144 کے تحت پابندی نافذ کر دی۔
مزید برآں خلاف ورزی کی صورت میں ایس ایچ اوز کو سیکشن 188 کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ متعلقہ محکموں اور ڈپٹی کمشنرز کو تمام احکامات پر فوری اور سخت عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
عوامی شکایات، ٹریفک جام اور حادثات کے خدشات کے باعث شہر کی مرکزی شاہراہوں پر رکشہ پابندی لگائی گئی ہے۔
کمشنر کراچی نے مزید چھ بڑی شاہراہوں پر 1+4 رکشوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کی جبکہ ٹریفک پولیس کی نئی سفارشات پر رکشہ پابندی کے دائرہ کار میں باضابطہ توسیع کر دی گئی۔ نئی چھ شاہراہوں پر رکشہ پابندی پہلے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مساوی مدت کیلئے نافذ رہے گی۔ اضافی سڑکوں پر پابندی عوامی تحفظ، ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے لگائی گئی۔
جن سڑکوں پر پابندی عائد کی گئی ان میں یونیورسٹی روڈ، کورنگی روڈ، اورنگی روڈ، سپر ہائی وے سے ملیر کینٹ، ماری پور روڈ، شاہراہ پاکستان سے سہراب گوٹھ سمیت 20 مرکزی سڑکوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر رکشہ پابندی پر پابندی عائد شاہراہوں پر رکشوں کی سڑکوں پر گئی ہے گیا ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔