غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل شدید رکاوٹوں کا شکار ہے‘اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ /تل ابیب /رام اللہ /بیروت /دبئی /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ میں مسلسل اسرائیلی حملوں اور سخت پابندیوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل شدید رکاوٹوں کا شکار ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ غزہ کے بیشتر اسپتال صرف جزوی طور پر فعال ہیں اور 16,500 سے زاید مریضوں کو فوری منتقلی کی اشد ضرورت ہے ۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جمعرات کی صبح مشرقی غزہ پر متعدد فضائی حملے کیے،اس دوران قابض اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھا۔ ایک مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے رفح شہر پر شدید فائرنگ کی۔ اسرائیلی طیاروں نے رفح اور مشرقی خان یونس پر بھی بمباری کی۔ اسی دوران قابض اسرائیلی افواج نے خان یونس کے مشرقی علاقے میں رہائشی عمارتوں کو بھی دھماکوں کے ذریعے تباہ کیا۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے مشرق میں کم از کم 5 فضائی حملے کیے۔ غزہ کے انسانی حقوق مرکز نے بتایا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے 47 دنوں میں جنگ بندی کے بعد بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 350 فلسطینی شہریوں کو شہید کیا جن میں 198 بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔ اسلامی تحریک مزاحمت “حماس’’ نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قابض اسرائیلی جیلوں میں 94 سے زاید فلسطینی قیدی شہید ہو چکے ہیں، غزہ پر جاری نسل کشی کے آغاز کے بعد یہ ایک منظم مجرمانہ طریقہ کار کی عکاسی کرتے ہیں جس نے نوجوانوں کو قتل کرنے کے لیے براہ راست میدان بنا دیا ہے۔ حماس نے جمعرات کے روز جاری بیان میں خبردار کیا کہ ہمارے بہادر قیدی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں، جن میں سخت تشدد، اْبلتا ہوا پانی ڈالنا، کتوں کے ذریعے حملے، اور جنسی زیادتیاں جیسے ہولناک مظالم شامل ہیں‘ جو تمام عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کے لیے خوراک کے ایک کروڑ پیکٹس کی مہم شروع کردی۔ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنی عوام سے فلسطینیوں کے لیے سے مدد کی اپیل کی تھی جس کے بعد سے خوراک پیکنگ ایکسپو سٹی میں جاری ہے۔ امدادی جہاز کے لیے رضاکار 7 دسمبر کو جمع ہوں گے جس دوران غزہ کے بچوں کے لیے فوری امداد تیار کی جائے گی۔ امریکا میں ریسرچ کمپنی BIG DATA POLL کے تازہ ترین سروے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی عوام خصوصاً نوجوانوں میں قابض اسرائیل کے ساتھ ہمدردی میں نمایاں کمی اور فلسطینی عوام کے ساتھ وابستگی میں قابلِ ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے‘ یہ تبدیلی بالخصوص ریپبلکن پارٹی کے نوجوانوں اور ’’امریکا فرسٹ‘‘ تحریک کے اندر زیادہ واضح ہے۔ جمعرات کے روز یہودی آبادکاروں نے نابلس کے جنوب میں واقع جماعن قصبے کی زمین پر ایک نیا بستی منصوبہ قائم کیا۔ آبادکاروں کے ایک گروہ نے جماعن میں دھاوا بول کر علاقے میں خیمے نصب کیے اور نئی بستی کے قیام کا آغاز کیا۔ تحقیقی مرکز ’’علما‘‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل نے لبنان اور شام کی سرحدی پٹی جسے وہ ’’شمالی محاذ‘‘ کا نام دیتا ہے، پر 27 نومبر سنہ 2024ء سے اب تک 670 فضائی حملے کیے۔ یہ اوسطاً ماہانہ51 حملے بنتے ہیں یعنی تقریباً ہر روز 2 حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ فلسطین انفارمیشن سینٹر ’’معطی‘‘ نے اپنی تازہ دستاویز میں انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک 600 سے زاید فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ ہولناک تعداد فلسطینی شہروں اور بستیوں میں خواتین کو براہِ راست نشانہ بنانے کے غیر معمولی اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ جمعرات کی صبح درجنوں صہیونی آبادکاروں نے قابض اسرائیل کی فوجی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ پر یلغار کی اور اس کے مقدس صحنوں میں کھلے عام تلمودی رسومات ادا کیں۔ بیت المقدس کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ آبادکاروں کے گروہ صبح کے اوقات میں جاری رہنے والی یلغار کے دوران مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور اس کی صحنوں میں اشتعال انگیز گشت کیا اور تلمودی رسومات ادا کیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں اسرائیل اور بھارت کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بڑھانے پر اتفاق اور مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔ اس موقع پر مودی سرکار کے وزیر برائے کامرس اور صنعت پیوش گوئل اور اسرائیلی ہم منصب نیر برکت نے ٹی او آر پر دستخط کیے۔ جس میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک تجارت کو فروغ دینے کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کریں گے اور قواعد میں نرمی برتیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ قابض اسرائیل قابض اسرائیلی ا بادکاروں کیا ہے کہ حملے کیے اور اس کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔