انٹر کے ضمنی امتحانات: مراکز کے اطراف غیر متعلقہ افراد کے آنے پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
فائل فوٹو۔
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے زیراہتمام انٹر کے ضمنی امتحانات کے موقع پر امتحانی مراکز کے اطراف غیر متعلقہ افراد کے آنے پر پابندی ہوگی۔
کمشنر کراچی نے دفعہ 144 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ بغیر ایڈمٹ کارڈ کے امتحانی مرکز میں داخلے اور امتحانی مراکز کے دو سو گز کے اندر فوٹو اسٹیٹ مشین چلانے پر پابندی ہوگی۔
کمشنر کراچی کے نوٹیفکیشن کے مطابق امتحانی اوقات میں موبائل فون اور برقی آلات کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
کمشنر کراچی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق امتحانی مراکز کے اطراف غیر ضروری اجتماع، رش اور ہجوم پر سخت کارروائی ہوگی۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق کمشنر نے پولیس کو خلاف ورزی پر سیکشن 188 کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراکز کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک