5 سالہ قید کے دوران کیا کچھ برداشت کیا؟ سنجے دت کے چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے حالیہ انٹرویو میں اپنی زندگی کے اس انتہائی کٹھن مرحلے پر روشنی ڈالی ہے جو انہوں نے 5 سالہ قید کے دوران گزارا۔ اداکار کا کہنا تھا کہ یہ دور ان کی شخصیت اور سوچ میں نمایاں تبدیلی کا سبب بنا۔
انٹرویو میں سنجے دت نے اپنے قانونی مسائل اور ان مشکلات کا تفصیل سے ذکر کیا جن کا انہیں جیل میں سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد واقعے کے بعد ان کے اہلِ خانہ شدید دباؤ اور دھمکیوں کی زد میں تھے۔ اداکار کے مطابق ان پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا الزام عائد کیا گیا حالانکہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بالی وڈ اداکار سنجے دت نے جیل میں کیا سیکھا؟
سنجے دت نے یہ بھی کہا کہ پانچ سال کی سزا مکمل کرنے کے باوجود وہ آج تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں کن بنیادوں پر جیل بھیجا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ عدالتوں نے بعد ازاں تسلیم کیا کہ اُن کا بم دھماکوں کے مقدمے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اپنی قید کے تجربے کو مشکل مگر سبق آموز قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ وقت قانون کی کتابیں پڑھنے، عبادت کرنے اور اپنی ذہنی مضبوطی کو برقرار رکھنے میں گزارا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے مشکلات کے آگے جھکنے کے بجائے انہیں زندگی کے اہم اسباق کے طور پر قبول کیا اور ثابت قدمی و صبر سے کام لیا۔
اداکار سنجے دت کو 1993 کے ممبئی بم دھماکوں سے منسلک اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کو بھارتی عدالت کی جانب سے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مسخ شدہ تصویرکشی، بالی ووڈ کی فلم ’دھُرندھر‘ تنقید کی زد میں
سنجے دت ان دنوں اپنی آنے والی متنازعہ فلم ’دھُرندھر‘ کی تیاری میں مصروف ہیں جس میں وہ رنویر سنگھ کے ساتھ اداکاری کرتے نظر آئیں گے۔ فلم میں پاکستانی سیاسی مناظر جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے، شہید بینظیر بھٹو کی تصاویر اور پارٹی کے پرچم شامل کیے گئے ہیں جس کے باعث فلم ریلیز سے پہلے ہی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔
واضح رہے کہ سنجے دت نے کھل نائیک، واسٹو اور منّا بھائی ایم بی بی ایس جیسی مقبول فلموں میں شاندار اداکاری کے ذریعے ہندی سنیما میں ایک منفرد شناخت قائم کی جس نے ان کی شہرت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ دھُرندھر رنویر سنگھ سنجے دت سنجے دت جیل فلم دھُرندھر ریلیز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ رنویر سنگھ سنجے دت جیل فلم دھ رندھر ریلیز انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔