لیزر بیم،اسرائیل کے چونکا دینے والے نظام کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
لیزر بیم میدانِ جنگ میں مشغولیت کے قوانین میں بنیادی تبدیلی لائے گا،وزارت دفاع
اسرائیل کی جانب سے تمام محاذوں پر چوکسی بدستور جاری ہے تاکہ حزب اللہ یا حوثیوں یہاں تک کہ ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ردِ عمل کا سامنا کیا جا سکے۔
اسی دوران اسرائیلی وزارتِ دفاع کے دفاعی تحقیق کے ادارے کے سربراہ ڈینئل گولڈ نے اعلان کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام آئرن بیم کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
یہ نظام لیزر ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے اور اس کی پہلی کھیپ رواں ماہ کے آخر تک فوج کے حوالے کر دی جائے گی۔ گولڈ نے کہا کہ لیزر پر مبنی آئرن بیم نظام میدانِ جنگ میں مشغولیت کے قوانین میں بنیادی تبدیلی لائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ دفاع مستقبل کی جنگوں اور ممکنہ تنازعات کے لیے خلائی شعبے، حملہ آور اور دفاعی صلاحیتوں میں نئی تکنیک کی اگلی جنریشن پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے، جو مناسب وقت پر سروس میں شامل کر دی جائیں گی۔
اس دفاعی نظام کی تیاری کئی برس قبل اسرائیلی وزارتِ دفاع، کمپنی رافائل اور ایلبِٹ سسٹمز کے تعاون سے شروع کی گئی تھی۔ اسے اور یتان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ اسرائیل کے کثیر الطبقات دفاعی نظام کا حصہ ہو گا، جس میں پہلے ہی آئرن ڈوم اور ڈیوڈ سلینگ شاٹ شامل ہیں۔ آئرن بیم کو خاص طور پر قریبی فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں، مارٹر اور توپ خانے کے گولوں کو لیزر شعاعوں کے ذریعے تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ توقع ہے کہ یہ چھوٹے سائز کے ڈرونز کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گا۔اس نظام کی طاقت 100 کلوواٹ تک پہنچ سکتی ہے، اور یہ چند سیکنڈ میں ہدف کو تباہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اس کا موثر دائرہ کار تقریبا 10 کلومیٹر تک بتایا جاتا ہے، جبکہ اس کے آپریشن کی لاگت آئرن ڈوم کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک لیزر انٹرسپٹ کی لاگت محض چند ڈالر یعنی تقریبا ایک بلب جلانے کے برابر ہوسکتی ہے، جبکہ آئرن ڈوم کے تامیر انٹرسپٹر کی لاگت ہزاروں ڈالر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں جنگ بھڑکنے کے بعد سے اسرائیل نے مختلف جدید جنگی اور تکنیکی وسائل کا استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے خفیہ معلومات اور سکیورٹی آپریشنز میں بھی ایسے نتائج حاصل کیے جنہیں بعض مبصرین نے غیر معمولی قرار دیا ہے۔
ان میں لبنان میں حزب اللہ کے عناصر کو نشانہ بنانے والا پیجر آپریشن سمیت متعدد کارروائیاں شامل ہیں۔ ساتھ ہی 12 روز جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایران کے اندر گہرے خفیہ آپریشن بھی انجام دیے گئے۔
ان میں اسرائیل نے دعوی کیا کہ اس نے درجنوں جوہری ماہرین اور عسکری کمانڈروں کا سراغ لگا کر انہیں ہلاک کیاـ
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف(Shehbaz Sharif) نے کہا ہے کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں، غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026 کے بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔
وفد میں میاں محمد منشاء ، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر, شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشاء، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم, خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہا اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں، مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے۔
مزیدپڑھیں:تمام ایپل ڈیوائسز پر یکساں تجربہ، واٹس ایپ کا یونیفائیڈ ڈیزائن پلان سامنے آ گیا
شہباز شریف نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں، کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو اور ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوںگے، نوجوانوں کیلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ ان کو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا، کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔
وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
کاروباری رہنما کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہیں، وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔
کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا، شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا۔
اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں۔
کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کیلئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔