افغان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرے، پاکستان اور کرغزستان کا اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور کرغزستان نے کہا ہے کہ افغان حکومت عالمی برادری سے کیے وعدے پورے اور پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی، معدنیات، تجارت، تعلیم، قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت پر 15 ایم او یوز سائن ہوئے جب کہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر تک لانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔ دو طرفہ مذاکرات میں وزیراعظم کی معاونت ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، سمیت دیگر اہم وفاقی وزراء اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی "ویژن سینٹرل ایشیا" پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماوں نے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات جو تاریخی روابط، مشترکہ تہذیب و اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں انکے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماوں نے ممالک کے درمیان جاری باہمی تعاون اور بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
باہمی اقتصادی تعاون میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماوں نے دو طرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔
تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر تک لایا جائے گا
مزید براں، دورے کے دوران دستخط شدہ معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر موثر عمل درآمد کے ذریعے 2027۔2028 تک دو طرفہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں رہنماوں نے ملاقات کے دوران 28-29 جولائی 2025 کو اسلام آباد میں منعقدہ کرغزستان پاکستان مشترکہ سرکاری کمیشن کے پانچویں اجلاس کے کامیاب انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے توانائی کے شعبہ میں تعاون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوۓ CASA-1000 منصوبے پر بروقت اور موثر عملدرآمد کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
یہ منصوبہ علاقائی توانائی تعاون میں اہم سنگِ میل اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔
دونوں رہنماوں نے جمہوریہ کرغزستان اور پاکستان کے درمیان محفوظ، مستحکم و دیر پا اور کثیر الجہتی روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تناظر میں دو طرفہ اور علاقائی تجارت میں مزید اضافہ کے لیے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان "کواڈرلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA)" کے تحت روڈ کوریڈور کے فعال ہونے پر اظہاراطمینان کیا گیا۔
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اور علاقائی امن و سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قانون، باالخصوص اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
افغان حکومت عالمی برادری سے کیے وعدے پورے، پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور رکے، اتفاق
دونوں رہنماؤں نے پُرامن اور مستحکم افغانستان اور افغان عوام کے لیے پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا اور اتفاق کیا کہ افغان طالبان حکومت کو بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری امن کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک خودمختار، قابل عمل، متحد اور آزاد فلسطینی ریاست جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف بطور دارالخلافہ پر مشتمل ہو کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
توانائی، معدنیات، تجارت، تعلیم، قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت پر 15 ایم او یوز سائن
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی، معدنیات، تجارت، تعلیم، قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت میں باہمی دلچسپی کی 15 مفاہمت کی یاد داشتوں کے تبادلے اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان اور جمہوریہ کرغزستان کےصدر نے شرکت کی۔
قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نےکرغزستان کے صدر عزت ماب کا وزیراعظم ہاوس اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کیا۔
وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر جمہوریہ کرغزستان کےصدر عزت ماب جناب صادر ژاپاروف کو پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ سرکاری استقبالیہ تقریب کے بعد دونوں رہنماوں کے درمیان ذاتی سطح پر ملاقات ہوئی۔
علاوہ ازیں وزیراعظم نے کرغزستان کے صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بھی مشترکہ گفتگو کی جس میں ملاقات میں ہونے والی بات چیت کے نکات پر روشنی ڈالی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور کرغزستان جمہوریہ کرغزستان دونوں رہنماوں نے عزم کا اعادہ کیا پر اتفاق کیا کرغزستان کے دونوں ممالک پاکستان کے کے درمیان ممالک کے دو طرفہ کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز