کراچی:

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر سارہ گل کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور لائسنس کے عدم اجرا سے متعلق درخواست فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر سارہ گل کی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور لائسنس کے عدم اجرا سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وکیل درخواستگزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کیوں آئے؟ پہلے پی ایم ڈی سی کو لکھتے۔

درخواستگزار کے وکیل نے مؤقف دیا کہ پی ایم ڈی سی کو درخواست دے رکھی ہے مگر کوئی جواب نہیں مل رہا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ خاص جواب کا کیا مطلب؟ وکیل نے بتایا کہ کچھ بھی جواب نہیں دے رہے۔ گریجویشن ڈگری کی رجسٹریشن نہیں کی جارہی۔ جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، سہیل یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کے درمیان درخواست گزار کو گھمایا جارہا ہے۔

درخواستگزار نے 2021 میں جے ایم ڈی سی سے ایم بی بی ایس مکمل کیا۔ جے ایم ڈی سی اب سہیل یونیورسٹی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ سہیل یونیورسٹی کے مطابق پہلے جامعہ کراچی سے الحاق تھا، اب علیحدہ یونیورسٹی ہے لہٰذا پی ایم ڈی سی پورٹل تک رسائی نہیں۔

وکیل نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کے مطابق طلبہ کا ریکارڈ اپڈیٹ کرنا یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے۔ اداروں کے آپس میں ذمہ داری کے تنازع کے باعث درخواستگزار کو لائسنس نہیں مل سکا۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے موسم سرما کی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک