پینشن کی عدم ادائیگی پر سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان اختر بلند رانا کیخلاف عدالتی حکم کے باوجود پینشن کی عدم ادائیگی پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے تیمور اسلم ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے مطابق سابق آڈیٹر جنرل اختر بلند رانا کو پینشن کی ادائیگی کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ پینشن کی شیٹ بنا کر لے آئیں اور بتائیں کہ کتنے پیسے بنتے ہیں اور کب دیں گے؟
جوائنٹ سیکرٹری فنانس ڈویژن کا کہنا تھا کہ ہمارا اس کیس سے کچھ لینا دینا نہیں، صرف متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو پالیسی گائیڈ لائن جاری کرتے ہیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ عام سے سرکاری ملازم کی پینشن کا معاملہ ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی بھی ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائر ہوتا ہے تو پینشن اس کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے جاری ہونی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہدایت جاری کیں کہ سول سرونٹ کے جو واجبات بنتے ہیں وہ ادا کر دیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ میں اکاؤنٹنٹ جنرل اور آڈیٹر جنرل کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا نہیں چاہتا۔ میں توہین عدالت کا اختیار استعمال نہیں کرتا چاہتا کہ پبلک سرونٹ کو کوئی نقصان ہو۔ میں ان دونوں کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے ان کو بات سمجھتا دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایک آرڈر ہے اس سے آپ اتفاق کریں یا نہیں، اس پر عمل ہونا ہے، عدالتی حکم ابھی تک نا معطل اور نا ہی کسی کورٹ سے کالعدم ہوا ہے، آپ آٹھ ماہ میں اپنا کیس لگوا کر عدالتی حکم معطل نہیں کروا سکے۔
عدالت نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت بارہ دسمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: توہین عدالت عدالتی حکم آڈیٹر جنرل پینشن کی کی سماعت
پڑھیں:
پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔
اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔