حکمرانوں نے سندھ کو لاقانونیت کے حوالے کر دیا ، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسر اور ایڈووکیٹ سچل بھٹی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکمرانوں نے سندھ کو مکمل طور پر لا قانونیت کے حوالے کر دیا ہے۔ پیرونمل میں بے دردی سے قتل کیے گئے ویرسی کولہی کے ورثا لاش سڑک پر رکھ کر قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر پولیس قاتلوں کو گرفتار نہیں کر رہی۔نواب ولی محمد کے قریب گاؤں اسماعیل بھنڈ میں امداد بھنڈ، اس کی معصوم بیٹی صدف اور بھتیجی زرقون بھنڈ کو قتل کیا گیا جبکہ فائرنگ سے دیگر عورتیں اور بچے شدید زخمی ہوئے۔ ورثا قاتلوں کی گرفتاری کے لیے احتجاج کر رہے ہیں مگر پولیس کارروائی کرنے کو تیار نہیں۔مبارکپور کے قریب گاؤں عبدالستار کوسو میں چور چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے، اہلِ خانہ کے جاگنے پر چوروں نے گولیاں مار کر 22 سالہ ریاض احمد کوسو کو قتل کر دیا۔ کوٹری کی رہائشی کپڑا بیچنے والی صبرین پٹھان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور جامشورو پولیس نے گرفتار قاتلوں کو بعد میں آزاد کر دیا۔ جیکب آباد کی رہائشی سارا بلوچ کے ساتھ تین افراد نے اسلحے کے زور پر زیادتی کی جس پر انتظامیہ مکمل خاموش ہے۔ایک ہفتے سے لاپتا پیر گاؤں کے قریب 25 سالہ غلام قادر منگنیجو کی گولیوں سے چھلنی لاش دریائے سندھ سے ملی۔ کوسکی کے قریب گاؤں صالح ملاح کی دس سالہ معصوم بچی کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ بے روزگاری اور افلاس کے باعث لوگ روزانہ خودکشیاں کر رہے ہیں۔عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں آئین، قانون اور انصاف کی حکمرانی کے بجائے وڈیروں، سرداروں، جاگیرداروں، ڈاکوؤں، چوروں اور جرائم پیشہ افراد کی بادشاہی قائم ہے۔ روزانہ لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، معصوم بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اغوا، ڈکیتیاں اور چوریاں معمول بن چکی ہیں اور کسی کو جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں۔لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں سڑکوں پر رکھ کر قاتلوں کی گرفتاری کے لیے دھرنے دیتے ہیں مگر پولیس وڈیروں اور سرداروں کے کہنے کے بغیر ایف آئی آر درج کرنے کو تیار نہیں۔ پولیس مکمل طور پر بااثر افراد کی ذاتی خادم بن چکی ہے۔ عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود جرگے کیے جا رہے ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کا عوام لا قانونیت، کرپشن، ڈاکوؤں، چوروں، بے روزگاری اور افلاس سے نجات کے لیے متحد ہو کر مشترکہ جدوجہد کے میدان میں آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہے ہیں کے قریب کر دیا
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔