لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرلی، فوری رہائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرلی، فوری رہائی کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے مذہبی منافرت کے مقدمے میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس صداقت خان نے ضمانت منظور کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا کو 5 ، 5 لاکھ روپے مالیت کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے انجینئر محمد علی مرزا کیخلاف مقدس ہستیوں کی توہین کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ وکیل ایف آئی اے کے مطابق ملزم کیخلاف باقاعدہ فتوی جاری ہوچکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فتوے لیکر ٹرائل کورٹ جائیں یہاں صرف ضمانت سے متعلق دلائل دیں۔ تفصیلات، شواہد اور فتوے ٹرائل کورٹ نے دیکھنے ہیں۔
دریں اثنا مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے ایف آئی اے کی تحقیقات کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں کی وساطت سے دائر درخواست میں ایف آئی اے اور پنجاب قرآن بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔محمد علی مرزا نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے انہیں نوٹس جاری کیے بغیر تحقیقات شروع کر دی ہیں، ایف آئی اے نے سوشل میڈیا سے ویڈیو پر فتوی کے لیے پنجاب قرآن بورڈ بھجوا دی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پنجاب قرآن بورڈ نے پرانی ویڈیو پر درخواست گزار کو گنہگار قرار دیا ہے، پنجاب قرآن بورڈ کو کسی طرح کا فتوی جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے، پنجاب قرآن بورڈ صرف قرآن پاک کی اشاعت کو دیکھتی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت درخواست گزار کے خلاف جاری فتوی کو کالعدم قرار دے کر تحقیقات ختم کرنے کا حکم دے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور اسرائیلی افواج فلسطینی علاقوں سے نکل جائے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد بھاری اکثریت سے منظور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کیخلاف کارروائی کیلئے خصوصی ٹاسک فورس... کراچی؛ گٹر میں گر کر بچے کے جاں بحق ہونے پر کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا شاہ کا جلد سعودی عرب کا دورہ — پاکستانی کمیونٹی سے اہم ملاقاتوں کا اعلان سوناآج پھر سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت مزید کم محکمہ موسمیات نے اگلے 3 ماہ کا موسمیاتی آؤٹ لک جاری کردیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: انجینئر محمد علی مرزا کی لاہور ہائیکورٹ درخواست میں ایف آئی اے کا حکم
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :