Juraat:
2026-07-24@03:01:08 GMT

ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی

پنجاب کی قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پہلے ہی سے متوقع تھی، کیونکہ اپوزیشن کے امیدواروں کو برابری کا میدان حاصل نہیں تھا۔ ان بے رونق انتخابات کا پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کیا تھا اور پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ کی کال کی وجہ سے ووٹر گھر سے باہر نہیں نکلے اور یہی ان انتخابات میں پی آٹی آئی کی کامیابی کی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ پنجاب کا ووٹر آج بھی عمران خان کے ساتھ ہے اور ان کی ہر کال پر لبیک کہنے کو تیار ہے، سوائے لاہور کی دو اور خیبرپختونخوا کے ہری پور کی نشستوں کے۔ وہاں بھی پی ٹی آئی کیلئے اپنی موجودگی کا احساس دلانا ناممکن تھا، کیونکہ اسے سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر امتیاز کا سامنا تھا۔ یوں یہ اصل مقابلہ مرکز کی دونوں بڑی اتحادی جماعتوں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، کے درمیان تھااور نتیجہ بہرحال حکومتی اتحاد کے حق میں ہی آنا تھا۔

یہ حقیقت کہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں دباؤ میں محسوس کر رہی تھی، اور لاہور میں بھی مؤثر واپسی ظاہر نہ کرسکی، پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہے اور ووٹرز کے نظام پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان انتخابات سے مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی میں اکثریت کو مزید تقویت ملی ہے، پیپلز پارٹی صرف ایک صوبائی اسمبلی کی نشست جیت کر تسلی کی حد تک کامیابی حاصل کر سکی۔ کئی حلقوں میں، خاص طور پر لاہور میں، فارم 45 کی عدم دستیابی کی رپورٹس، پولیس کی غیر معمولی تعیناتی جس کا مقصد واضح طور پر اپوزیشن کو نشانہ بنانا تھا، امیدواروں کو ریٹرننگ افسران تک رسائی سے روکنا، پی ٹی آئی کیمپوں کو ہٹانا اور کارکنوں کی گرفتاریاں یہ سب واقعات بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوئے، جو قبل از انتخاب دھاندلی کے مترادف ہیں۔اس طرح یہ انتخابی عمل حکمران جماعتوں کیلئے مثبت تاثر قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس، اس نے بالغ رائے دہی اور عوام کے آزادانہ انتخاب کے جذبے کو مجروح کیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کلین سویپ کامیابی، اور اس کے ساتھ ہزارہ کے اہم حلقے ہری پور میں بھی جیت، اس کے ترقیاتی بیانیے کی عوامی توثیق نہیں کہلا سکتی۔ چونکہ اس کی بڑی حریف جماعت، پی ٹی آئی، اس کمزور اور غیر دلچسپ انتخابی مقابلے سے بڑی حد تک باہر رہی، اس لیے پنجاب جہاں مسلم لیگ (ن) گزشتہ چار دہائیوں سے غالب رہی ہے میں اس کی جیت پہلے سے ہی یقینی تھی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ حکمراں عت کو اس کے باوجودریاستی مشینری استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ مبینہ طور پر کئی حلقوں میں نتائج کو اپنے حق میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا سکے۔ مسلم لیگ (ن) کی فتح حقیقت ضرور ہے، مگر اس مقبولیت کی کہانی کھڑی کرنے کے لیے جس طریقہکار کا سہارا لیا گیا، اس نے اس کامیابی کو مشکوک بنا دیا ہے، چاہے اسے مکمل طور پر ناقابلِ اعتبار نہ بھی بنائے۔ وہ جیت جس کے لیے نہ کوئی مضبوط حریف موجود ہو، اور نہ ہی شفاف انتخابی عمل، دراصل کھوکھلی ہوتی ہے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی نے انتخابی عمل سے دور رہ کر جمہوریت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایالیکن اس کے پاس بائیکاٹ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچاتھا۔ یہ خیال کہ بہرحال جیتنے نہیں دیا جائے گاپارٹی کے اندر تیزی سے پھیل چکا تھا، اور ساتھ ہی پارٹی اور اس کی قیادت پر دباؤ، اور فروری 2024 کے انتخابات میں اس کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیے جانے کے تجربے نے بائیکاٹ کے فیصلے کو تقویت دی۔ تاہم ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کرکیپی ٹی آئی نے اپنی عوامی حمایت کو متحرک کرنے کا ایک بڑا موقع کھو دیا، جو ایک بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے ممکن تھا۔ اس کے کارکنوں پر کسی بھی کریک ڈاؤن سے اس کے مخالفین مزید بے نقاب ہوتے۔ بینظیر بھٹو نے بھی برسوں بعد 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کو بڑی غلطی قرار دیا تھا، جس سے ضیا حامی قوتوں کو کھلا میدان مل گیا تھا۔ پی ٹی آئی بھی اس فیصلے پر پچھتائے گی ۔

مسلم لیگ (ن) کی اس بھاری کامیابی سے اسے قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت مل چکی ہے اور وہ اب قانون سازی کے لیے اپنے اتحادیوں کی محتاج نہیں رہی۔ دوسری طرف، ان ضمنی انتخابات نے پیپلز پارٹی کی وہ معمولی امید بھی ختم کر دی ہے کہ شاید وہ گزشتہ 15برس میں پنجاب میں کھوئی ہوئی سیاسی زمین کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لے۔ واحد صوبائی نشست جو وہ جیت سکی ہے وہ مظفرگڑھ کی ہے جو خود مسلم لیگ (ن) نے اسے دے دی تھی۔ یہ بات کہ مسلم لیگ (ن) نے ڈی جی خان میں اپنی اتحادی جماعت کو جگہ دینے سے بھی انکار کر دیا، واضح کرتی ہے کہ وہ پنجاب میں نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی مکمل طور پر غیر مؤثر رکھنا چاہتی ہے، جو مستقبل قریب میں صوبے میں حاشیے پر ہی رہے گی۔مختصر یہ کہ اس پورے عمل میں صرف بڑی سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچاہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ضمنی انتخابات انتخابات میں پیپلز پارٹی پی ٹی آئی ٹی آئی کی مسلم لیگ ہے اور

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف