ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن )کی جیت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ضمنی انتخابات کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کلین سویپ کر دیا ہے۔ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کی جیت پر تو کہا جا سکتا ہے کہ وہاں اس کی حکومت ہے، اس لیے ضمنی انتخابات حکومت ہی جیتتی ہے۔ لیکن ہری پور پر کیاکہا جا ئے گا؟ ہری پور میں تو تحریک انصاف کی مضبوط حکومت ہے۔ انتخابی مہم کے لیے ’’کے پی‘‘ کے وزیر اعلیٰ بھی گئے۔ حالانکہ انھیں الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس بھی کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کی ساری تحریک انصاف نے ہری پور کا ضمنی الیکشن جیتنے کے لیے انتخابی مہم چلائی۔ لیکن پھر بھی مسلم لیگ (ن) کا ا میدوار واضح اکثریت سے جیت گیا۔ تحریک انصاف اپنی حکومت میں ہار گئی۔
ہری پور میں مسلم لیگ (ن) کی جیت تحریک انصاف کو کافی پیغامات دے رہی ہے۔ میرے خیال میں تحریک انصاف کے لیے کے پی میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ ہری پور کی عمر ایوب کی سیٹ تحریک انصاف کی ایک محفوظ سیٹ تھی۔ یہ عمر ایوب کی خاندانی سیٹ ہے۔ وہ اکثر یہاں سے جیتتے ہیں۔
عمر ایوب اس سیٹ کو اس قدر محفوظ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اس سیٹ کے لیے بانی تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے اصول کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔ ہم سب کو علم ہے کہ بانی تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ لیکن دو شخصیات نے اس بائیکاٹ کو ماننے سے انکار کیا۔ ان میں ایک عمر ایوب اور دوسرے حماد اظہر شامل ہیں۔ حماد اظہر کو بھی یہی خیال تھا کہ ان کی سیٹ بہت محفوظ ہے۔ ان کے والد نے یہ سیٹ 2024کے عام انتخابات میں بھی جیت لی تھی۔ اس لیے اس کو جیتنا بہت آسان ہوگا۔ تا ہم اب ثابت ہوا کہ اب تحریک انصاف کی محفوظ سیٹیں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔
ایک اور بات عمر ایوب اور حماد اظہر نے جہاں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے اصول کو توڑا۔ وہاں انھوں نے ٹکٹیں بھی اپنے ہی خاندان کو دی ہیں۔ عمر ایوب نے اپنی جگہ اپنی بیگم کو الیکشن لڑوایا۔ جب کہ حماد اظہر بھی اپنے رشتہ دار کو لے آئے۔ دونوں جگہ خاندانوں نے اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔ شاید تحریک انصاف کے ووٹرز کو موروثی امیدوار پسند نہیں آئے۔ عمر ایوب کی جگہ ان کی بیگم بھی شاید تحریک انصاف کے ووٹر کو پسند نہیں آئی اور حماد اظہر کے غیر سیاسی رشتہ دار کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔ویسے تو تحریک انصاف موروثی سیاست کے خلاف بات کرتی ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اب ٹکٹیں موروثی اصولوں کے مطابق ہی دی جاتی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دو حلقوں میں تحریک انصاف کے مضبوط امیدواروں کو شکست دی ہے جب کہ ڈیرہ غازی خان میں پیپلزپارٹی کو شکست دی ہے۔ ڈیر غازی خان میں تحریک انصاف کی زر تاج گل کے نا اہل ہونے سے سیٹ خالی ہوئی تھی۔ لیکن زرتاج گل نے تحریک انصاف کے بائیکاٹ پر عمل کرتے ہوئے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ تا ہم یہاں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے مقابلے پر امیدوار کھڑا کیا۔ پیپلزپارٹی کے دوست محمد کھوسہ نے الیکشن لڑا۔ تا ہم مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو بھی واضح اکثریت سے شکست دی ہے۔
باقی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ آزاد امیدواروں سے رہا ہے۔ یہاں بھی دلچسپ صورتحال رہی ہے۔ گو کہ تحریک انصاف الیکشن میں موجود نہیں تھی۔ لیکن ان کے مقامی دھڑوں نے مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں آزاد امیدواروں کو سپورٹ کیا ہے۔ کیونکہ مقامی طور پر سیاسی دھڑے الیکشن سے بالکل لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ اس لیے تحریک انصاف کے مقامی دھڑوں نے مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں ہی ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے یقینا حوصلہ افزا ہیں، کہیں نہ کہیں لوگ دوبارہ مسلم لیگ (ن) کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ان کے ووٹ بینک میں اضافہ دیکھنے میں نظر آیا ہے۔ پنجاب اور مرکز کی حکومت کی کارکردگی پر عوام نے اعتماد کی مہرلگائی ہے۔ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔
کیا تحریک انصاف کے بائیکاٹ نے ان کے ووٹر کو کنفیوژ کیا ہے؟ یقیناً تحریک انصاف کابائیکاٹ ان کے ووٹر کو سمجھ نہیں آیا۔ اگر اصول یہ تھا کہ نا اہل ہونے والوں حلقوں میں بائیکاٹ کرنا تھا تو عمر ایوب کے حلقہ کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے تھا۔ اگر ملک کے انتخابی نظام کا بائیکاٹ کرنا مقصود تھا تو دو حلقوں میں لڑنا نا قابل فہم تھا۔ کچھ حلقوں میں لڑنا اور کچھ حلقوں میں بائیکاٹ کسی کو سمجھ نہیں آیا۔ ووٹر کنفیوژ ہوا ہے۔ نہ وہ مکمل بائیکات کر سکا اور نہ ہی مکمل انتخابی مہم چلا سکا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر بھی کہیں بائیکاٹ کی مہم چل رہی تھی اور کہیں ووٹ ڈالنے کی اپیلیں چل رہی تھیں۔
یہ وہی بات ہے کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے تو استعفیٰ دے دیے ہیں۔ لیکن قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفیٰ نہیں دیے ہیں۔ اگر آپ نے پارلیمان میں بیٹھنا ہے تو قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل فہم پالیسی ہے۔ جس کی کسی کو سمجھ نہیں آرہی۔
دھاندلی کا بیانیہ بھی ان ضمنی انتخابات میںزمین بوس ہوگیا۔ کے پی میں دھاندلی کیسے ہو سکتی ہے۔ وہاں پر تو حکومت اپنی تھی۔ پریذ ائڈنگ افسر بھی اپنی حکومت کے تھے۔ پولیس اپنی تھی۔ سرکاری ملازمین بھی اپنے تھے۔ دھاندلی کیسے ہو سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی خود انتخابی مہم چلانے گئے۔ انھیں شوکاز بھی ہوا ۔ ساری تحریک انصاف ہری پور گئی۔ پھر بھی ہار گئے۔ اس کے مقابلے میں حماد ا ظہر کی حکمت عملی مختلف تھی۔
انھوں نے کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا۔ انھوں نے کسی بڑے لیڈر کو حلقہ میں نہیں بلایا۔ کہا جا رہا ہے کہ انھیں امید تھی کہ لو پروفائل کی وجہ سے وہ سیٹ نکال لیں گے۔ دوست بتاتے ہیں کہ وہ رابطے میں تھے۔ اپنی سیٹ کے لیے بات کر رہے تھے۔ لیکن ان کی بات نہیں بنی۔ اور وہ ہار گئے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج ملک کے اگلے سیاسی منظر نامہ کو بیان کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی اکثریت بنا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کا اتحادیوں پرانحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی تبدیلی نہیں ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں کئی اشارے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے بائیکاٹ ضمنی انتخابات کے تحریک انصاف کی ان کے ووٹ عمر ایوب مسلم لیگ انھوں نے کے ووٹر ہری پور کے لیے نہیں ا کو بھی رہی ہے اس لیے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔