Express News:
2026-07-24@05:04:47 GMT

ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن )کی جیت

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

ضمنی انتخابات کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کلین سویپ کر دیا ہے۔ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کی جیت پر تو کہا جا سکتا ہے کہ وہاں اس کی حکومت ہے، اس لیے ضمنی انتخابات حکومت ہی جیتتی ہے۔ لیکن ہری پور پر کیاکہا جا ئے گا؟ ہری پور میں تو تحریک انصاف کی مضبوط حکومت ہے۔ انتخابی مہم کے لیے ’’کے پی‘‘ کے وزیر اعلیٰ بھی گئے۔ حالانکہ انھیں الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس بھی کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کی ساری تحریک انصاف نے ہری پور کا ضمنی الیکشن جیتنے کے لیے انتخابی مہم چلائی۔ لیکن پھر بھی مسلم لیگ (ن) کا ا میدوار واضح اکثریت سے جیت گیا۔ تحریک انصاف اپنی حکومت میں ہار گئی۔

ہری پور میں مسلم لیگ (ن) کی جیت تحریک انصاف کو کافی پیغامات دے رہی ہے۔ میرے خیال میں تحریک انصاف کے لیے کے پی میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ ہری پور کی عمر ایوب کی سیٹ تحریک انصاف کی ایک محفوظ سیٹ تھی۔ یہ عمر ایوب کی خاندانی سیٹ ہے۔ وہ اکثر یہاں سے جیتتے ہیں۔

عمر ایوب اس سیٹ کو اس قدر محفوظ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اس سیٹ کے لیے بانی تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے اصول کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔ ہم سب کو علم ہے کہ بانی تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ لیکن دو شخصیات نے اس بائیکاٹ کو ماننے سے انکار کیا۔ ان میں ایک عمر ایوب اور دوسرے حماد اظہر شامل ہیں۔ حماد اظہر کو بھی یہی خیال تھا کہ ان کی سیٹ بہت محفوظ ہے۔ ان کے والد نے یہ سیٹ 2024کے عام انتخابات میں بھی جیت لی تھی۔ اس لیے اس کو جیتنا بہت آسان ہوگا۔ تا ہم اب ثابت ہوا کہ اب تحریک انصاف کی محفوظ سیٹیں بھی محفوظ نہیں رہی ہیں۔

ایک اور بات عمر ایوب اور حماد اظہر نے جہاں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے اصول کو توڑا۔ وہاں انھوں نے ٹکٹیں بھی اپنے ہی خاندان کو دی ہیں۔ عمر ایوب نے اپنی جگہ اپنی بیگم کو الیکشن لڑوایا۔ جب کہ حماد اظہر بھی اپنے رشتہ دار کو لے آئے۔ دونوں جگہ خاندانوں نے اپنی اجارہ داری قائم رکھی۔ شاید تحریک انصاف کے ووٹرز کو موروثی امیدوار پسند نہیں آئے۔ عمر ایوب کی جگہ ان کی بیگم بھی شاید تحریک انصاف کے ووٹر کو پسند نہیں آئی اور حماد اظہر کے غیر سیاسی رشتہ دار کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔ویسے تو تحریک انصاف موروثی سیاست کے خلاف بات کرتی ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اب ٹکٹیں موروثی اصولوں کے مطابق ہی دی جاتی ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دو حلقوں میں تحریک انصاف کے مضبوط امیدواروں کو شکست دی ہے جب کہ ڈیرہ غازی خان میں پیپلزپارٹی کو شکست دی ہے۔ ڈیر غازی خان میں تحریک انصاف کی زر تاج گل کے نا اہل ہونے سے سیٹ خالی ہوئی تھی۔ لیکن زرتاج گل نے تحریک انصاف کے بائیکاٹ پر عمل کرتے ہوئے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ تا ہم یہاں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے مقابلے پر امیدوار کھڑا کیا۔ پیپلزپارٹی کے دوست محمد کھوسہ نے الیکشن لڑا۔ تا ہم مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو بھی واضح اکثریت سے شکست دی ہے۔

باقی حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ آزاد امیدواروں سے رہا ہے۔ یہاں بھی دلچسپ صورتحال رہی ہے۔ گو کہ تحریک انصاف الیکشن میں موجود نہیں تھی۔ لیکن ان کے مقامی دھڑوں نے مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں آزاد امیدواروں کو سپورٹ کیا ہے۔ کیونکہ مقامی طور پر سیاسی دھڑے الیکشن سے بالکل لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ اس لیے تحریک انصاف کے مقامی دھڑوں نے مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں ہی ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لیے یقینا حوصلہ افزا ہیں، کہیں نہ کہیں لوگ دوبارہ مسلم لیگ (ن) کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ان کے ووٹ بینک میں اضافہ دیکھنے میں نظر آیا ہے۔ پنجاب اور مرکز کی حکومت کی کارکردگی پر عوام نے اعتماد کی مہرلگائی ہے۔ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔

کیا تحریک انصاف کے بائیکاٹ نے ان کے ووٹر کو کنفیوژ کیا ہے؟ یقیناً تحریک انصاف کابائیکاٹ ان کے ووٹر کو سمجھ نہیں آیا۔ اگر اصول یہ تھا کہ نا اہل ہونے والوں حلقوں میں بائیکاٹ کرنا تھا تو عمر ایوب کے حلقہ کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے تھا۔ اگر ملک کے انتخابی نظام کا بائیکاٹ کرنا مقصود تھا تو دو حلقوں میں لڑنا نا قابل فہم تھا۔ کچھ حلقوں میں لڑنا اور کچھ حلقوں میں بائیکاٹ کسی کو سمجھ نہیں آیا۔ ووٹر کنفیوژ ہوا ہے۔ نہ وہ مکمل بائیکات کر سکا اور نہ ہی مکمل انتخابی مہم چلا سکا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر بھی کہیں بائیکاٹ کی مہم چل رہی تھی اور کہیں ووٹ ڈالنے کی اپیلیں چل رہی تھیں۔

یہ وہی بات ہے کہ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے تو استعفیٰ دے دیے ہیں۔ لیکن قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفیٰ نہیں دیے ہیں۔ اگر آپ نے پارلیمان میں بیٹھنا ہے تو قائمہ کمیٹیوں سے استعفیٰ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل فہم پالیسی ہے۔ جس کی کسی کو سمجھ نہیں آرہی۔

دھاندلی کا بیانیہ بھی ان ضمنی انتخابات میںزمین بوس ہوگیا۔ کے پی میں دھاندلی کیسے ہو سکتی ہے۔ وہاں پر تو حکومت اپنی تھی۔ پریذ ائڈنگ افسر بھی اپنی حکومت کے تھے۔ پولیس اپنی تھی۔ سرکاری ملازمین بھی اپنے تھے۔ دھاندلی کیسے ہو سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی خود انتخابی مہم چلانے گئے۔ انھیں شوکاز بھی ہوا ۔ ساری تحریک انصاف ہری پور گئی۔ پھر بھی ہار گئے۔ اس کے مقابلے میں حماد ا ظہر کی حکمت عملی مختلف تھی۔

انھوں نے کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا۔ انھوں نے کسی بڑے لیڈر کو حلقہ میں نہیں بلایا۔ کہا جا رہا ہے کہ انھیں امید تھی کہ لو پروفائل کی وجہ سے وہ سیٹ نکال لیں گے۔ دوست بتاتے ہیں کہ وہ رابطے میں تھے۔ اپنی سیٹ کے لیے بات کر رہے تھے۔ لیکن ان کی بات نہیں بنی۔ اور وہ ہار گئے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج ملک کے اگلے سیاسی منظر نامہ کو بیان کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کی اقتدار پر گرفت مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی اکثریت بنا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کا اتحادیوں پرانحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی تبدیلی نہیں ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں کئی اشارے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف کے بائیکاٹ ضمنی انتخابات کے تحریک انصاف کی ان کے ووٹ عمر ایوب مسلم لیگ انھوں نے کے ووٹر ہری پور کے لیے نہیں ا کو بھی رہی ہے اس لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے