پلاٹ C-26اور C-10پر بے لگام تعمیرات ، بائی لاز اور نگرانی سب روند دیے گئے
ڈائریکٹر ایس بی سی اے جعفر امام صدیقی کی چشم پوشی، انتظامی بدعنوانی سے شکوک گہرے

وسطی کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 10میں پلاٹ نمبر C-26اور C-10 پر تیزی سے کھڑی کی جانے والی بلند و بالا، بے قابو تعمیرات نے پورے علاقے کی فضاء کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ تعمیراتی مافیا نے قانون کو روندتے ہوئے جس ڈھٹائی سے غیر قانونی تعمیرات جاری رکھی ہوئی ہیں، اس نے شہریوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کے مطابق ان عمارتوں پر جاری کام کسی بھی قانونی اجازت، نقشے کی وضاحت اور آفیشل نگرانی سے بالکل عاری دکھائی دیتا ہے ۔ نہ پارکنگ کا کوئی تصور، نہ اسٹرکچر کی منظوری، نہ بائی لاز کی پاسداری بس طاقت، اثرورسوخ اور پیسے کا بے دریغ استعمال!مکینوں نے اس صورتحال کو قانون کا سرِعام قتل قرار دیا ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی مبینہ چشم پوشی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بلڈر مافیا کو کہیں نہ کہیں سے مضبوط پشت پناہی حاصل ہے ۔ متعدد شکایات کے باوجود ایس بی سی اے کی طرف سے مکمل خاموشی، عدم دلچسپی اور عدم کارروائی نے شکوک کو حقیقت کا رنگ دینا شروع کر دیا ہے ۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ انتظامی اداروں کی یہ بے حسی نہ صرف شہر کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے بلکہ بدعنوانی کے مضبوط نیٹ ورک کی بھی نشان دہی کرتی ہے ۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تعمیرات کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت ایکشن لیا جائے، ورنہ پورا علاقہ ناقابلِ رہائش بننے میں دیر نہیں لگے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: دیا ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن