شدید دھند کی وجہ سے اسلام آباد ایکسپریس وے بند، شہریوں سے احتیاط کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: شدید دھند کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے پر حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں پشاور کے راستے جانے والے راستے سمیت اہم حصوں میں ٹریفک عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق دھند کی شدت کے باعث گاڑیوں کا بروقت نظر نہ آنا حادثات کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اس لیے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا۔
ترجمان نے کہا کہ دھند کے دوران ڈرائیونگ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب حدِ نگاہ چند میٹر تک محدود ہو جائے۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دھند کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اگر سفر ناگزیر ہو تو فوگ لائٹس کا استعمال کریں اور رفتار انتہائی کم رکھیں۔ جیسے ہی دھند کی شدت کم ہوگی اور حدِ نگاہ بہتر ہوگی، ٹریفک کو کنٹرولڈ انداز میں بحال کر دیا جائے گا۔
مزید برآں، شہری کسی بھی اپڈیٹ کے لیے ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کر سکتے ہیں اور جاری کی گئی ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز