Express News:
2026-07-24@03:23:11 GMT

مہر تصدیق

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ جنگیں کبھی تنازعات کا حل نہیں ہوتیں بلکہ نت نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں جن سے مزید بحران پیدا ہوتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ تنازعات اور کشیدگی کے خاتمے اور مسائل کے قابل قبول حل کے لیے دو طرفہ مذاکرات کو ہمیشہ اہمیت اور فوقیت دی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا کے دو اہم ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان اول دن سے مسئلہ کشمیر کشیدگی اور جنگوں کی بنیاد بنا ہوا ہے۔

پاکستان کی طرف سے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حوالے سے ہر سطح پر مذاکرات کی خواہش اور پیشکش کے باوجود بھارت دو طرفہ بات چیت سے راہ فرار اختیار کرتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت ازخود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا اور سلامتی کونسل میں قرارداد ریکارڈ پر موجود ہے کہ جموں و کشمیر کا علاقہ متنازعہ ہے اور وادی میں استصواب رائے کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جائے، بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کشمیری استصواب رائے کرانے کے عہد پر کاربند رہیں گے اور اس پر امن بحال ہوتے ہی عمل درآمد کیا جائے گا لیکن افسوس! نہ صرف لال بہادر شاستری بلکہ بعد میں آنے والے کسی بھارتی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہ دی۔ نتیجتاً دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی جو جنگوں پر منتج ہوئی۔ اسی باعث اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچ جنگیں ہو چکی ہیں ۔ پہلی جنگ 1948 میں لڑی گئی جو اقوام متحدہ کی مداخلت پر ختم ہوئی۔ دوسری جنگ 1965 میں لڑی گئی جو پاکستان کی برتری پر اختتام پذیر ہوئی۔ تیسری جنگ 1971 میں لڑی گئی جس کے نتیجے میں پاکستان کا مشرقی بازو ہم سے جدا ہو کر بنگلا دیش بن گیا۔ چوتھی جنگ کارگل کے محاذ پر لڑی گئی اور عالمی دباؤ پر دونوں فریق اپنی اپنی پہلی پوزیشن پر واپس آگئے۔

پانچویں جنگ جس کا پرچار آج پوری دنیا میں ہو رہا ہے وہ مئی 2025 کے پہلے عشرے میں چار دن تک لڑی گئی (7 مئی 2025 سے 10 مئی2025 تک)۔ اس جنگ میں پاکستان نے واضح برتری کے ساتھ بھارت پر فتح حاصل کی۔ بھارت کی شکست اور پاکستان کی شان دار کامیابی کا سہرا پاک فوج کے سپہ سالار اعظم فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے سر جاتا ہے جنھوں نے اپنی پیشہ ورانہ جنگی مہارت اور تجربے سے بھارت کو ایسی عبرت ناک شکست سے دوچار کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی عالمی برادری میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارت کے سات رافیل طیارے گرا کر بھارت پر اپنی ایسی دھاک بٹھائی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اس فتح کا اپنی تقریروں اور بیانات میں تذکرہ کرکے مودی کے زخموں پر نمک پاشی کرتے رہتے ہیں اور اب امریکی کانگریس نے بھی پاک بھارت جنگ میں بھارتی شکست پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

 امریکا چین اقتصادی و سلامتی جائزہ مشن کی جانب سے کانگریس میں جو رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس کے مطابق پاکستان نے بھارت پر واضح فوجی برتری حاصل کی، اس جنگ میں پاکستان نے چینی ہتھیاروں کی مدد سے رافیل طیاروں کو نشانہ بنایا جو بجا طور پر چینی ہتھیاروں کی فروخت کا پیمانہ بن گیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بجا طور پر کہا کہ چار روزہ جنگ کے بعد بھارتی فوج گھٹنوں پر آگئی۔ امریکی کانگریس کی حالیہ رپورٹ نے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی طرف سے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کرنے اور پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

انھوں نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حق ملنے تک پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم پاکستان نے کی فتوحات کا دائرہ معاشی میدان تک بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا جو یقینا قابل ستائش ہے لیکن حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورت حال اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے 186 صفحات پر مشتمل جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے ہر درجے پر بدعنوانی موجود ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان دہ کرپشن ہے جو طاقتور اور مراعات یافتہ حلقے اہم معاشی شعبوں پر اثر انداز ہو کر کرتے ہیں۔

جن میں ریاستی ملکیتی یا ریاستی سرپرستی یافتہ ادارے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں قائد اعظم کے 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آج 70 برس بعد بھی بدعنوانی ملک کی معاشی و سماجی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے چشم کشا حقائق نے ہمارے سسٹمکا پول کھول دیا ہے اور سسٹم کی بدعنوانیوں اور کرپشن پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ہے جو حکمرانوں اور صاحب اختیار حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ میں پاکستان پاکستان کی پاکستان نے بھارت کے لڑی گئی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش