کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی پی ایس ایل کے ساتھ مزید 10 سال کیلئے معاہدےکی تجدیدکر دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے بھی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے ساتھ مزید 10 سال کے لیے معاہدے کی تجدید کر دی ہے۔پی ایس ایل نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا معاہدہ نئی ویلیوایشن کے تحت دوبارہ طے پایا ہے۔ فرنچائز کی ویلیوایشن ای وائی مینا نامی غیر ملکی فرم نے کی۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نےکوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے معاہدے کی تجدید پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا ہےکہ گلیڈی ایٹرز کے اونر ندیم عمر کی پی ایس ایل کے لیے خدمات قابل ستائش ہیں، ندیم عمر کا اعتماد پی ایس ایل کی بڑھتی ساکھ کا ثبوت ہے۔سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ شراکت مزید مضبوط ہوگی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا جذبہ اور کمٹمنٹ لائق تحسین ہے۔سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ ندیم عمر کی خدمات پی ایس ایل والوں سے بھی بڑھ کر ہیں،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز مقبولیت اور کارکردگی کے باعث پی ایس ایل کی مضبوط ترین فرنچائز ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پی ایس ایل کے ساتھ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔