لاہور قلندرز کی پی ایس ایل کیساتھ مزید 10 سال کے لیے معاہدے کی تجدید
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
لاہور قلندرز نے پی ایس ایل کیساتھ مزید 10 سال کے لیے معاہدے کی تجدید کر دی۔
لاہور قلندرز نے ای وائی کی ویلیوایشن کے بعد معاہدے کی تجدید کی، چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ لاہور قلندرز کی جانب سے معاہدے کی تجدید پی ایس ایل پر اعتماد کا ثبوت ہے، لاہور قلندرز کے مالکان نے اپنی فرنچائز کو عالمی برانڈ بنا دیا۔
سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل اگلے سال 11ویں ایڈیشن سے آٹھ ٹیموں تک بڑھ جائے گا، لاہور قلندرز کا جذبہ اور توانائی پی ایس ایل کی پہچان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور قلندرز کی ٹیلنٹ نرسری نے پاکستان کرکٹ کو نیا خون دیا۔
شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں چار سال میں تین ٹائٹل لاہور قلندرز کے نام کیے، پی سی بی نے لاہور قلندرز کے ساتھ مضبوط شراکت داری جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاہور قلندرز پی ایس ایل کی تجدید
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔