جنوبی ایشیائی ممالک کی امریکا اور بھارت کے ممکنہ تجارتی معاہدے پر گہری نظر
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک امریکا اور بھارت کے ممکنہ تجارتی معاہدے کی تیاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ معاہدہ خطے میں تجارتی تعلقات کو کس طرح متاثر کرے گا۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک امریکا اور بھارت کے تجارتی معاہدے پر غور کر رہے ہیں، جو اب اپنے آخری مراحل میں ہے، وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ امریکا کے اس خطے کے ساتھ تجارتی تعلقات کو کس طرح متاثر کرے گا۔
امریکی اور بھارتی حکام نے بتایا ہے کہ توقع ہے یہ معاہدہ نومبر کے آخر تک مکمل ہو جائے گا، جس سے 2030 تک دونوں ملکوں کے باہمی تجارتی حجم کو 500 ارب ڈالر تک بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ایک سفارتی ذرائع نے کہا کہ پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک امید کر رہے ہیں کہ یہ معاہدہ امریکا کو خطے کے باقی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کی ترغیب دے گا اور وہ چاہتے ہیں کہ سب کے ساتھ برابر سلوک ہو۔
ذرائع کے مطابق یہ خطے کے معاملات وہ وجہ ہیں جس کی وجہ سے امریکی اور پاکستانی مشترکہ تجارتی بیان کے اعلان میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاکہ مختلف نکات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
پاکستانی حکام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اس معاہدے سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسے کہ امریکا سے آنے والے خام مال سے بنی مصنوعات، جیسے امریکی کپاس سے تیار شدہ کپڑے پر ٹیکس کم ہونا۔
ایک ذرائع نے کہا کہ اب پاکستانی فوری اعلان کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہے، بلکہ وہ امریکا-بھارت معاہدے کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اکتوبر میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی سالانہ ملاقاتوں میں شرکت کے لیے واشنگٹن گئے، تو پاکستانی حکام نے رپورٹرز کو بتایا کہ یہ بیان اگر دنوں میں جاری نہیں کیا گیا تو ہفتوں میں ضرور جاری کر دیا جائے گا۔
امریکا-پاکستان تجارتی معاہدہ، جو اصولی طور پر جولائی 2025 میں طے پایا، 7 اگست کو نافذ ہوا، اس معاہدے میں دونوں ملکوں کے درمیان محصولات کم کیے گئے ہیں، جس سے پاکستانی برآمدات جیسے ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، سرجیکل آلات اور زرعی مصنوعات کو خاص فائدہ ملے گا، اس کے ساتھ ہی پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل سروسز ٹیکس واپس لے لی۔
اس سے پہلے، یکم اگست کو پاکستان نے اعلان کیا کہ امریکا نے اس کی برآمدات پر 19 فیصد محصول عائد کیا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپریل میں اعلان کردہ 29 فیصد شرح سے کم ہے۔
اسلام آباد نے اس نئی شرح کو متوازن اور مستقبل بینی پر مبنی اقدام قرار دیا، جس کا مقصد امریکی مارکیٹ میں پاکستان کی مسابقت کو بڑھانا ہے۔
اس کے برعکس بھارت کو ابتدائی طور پر 9 اپریل کو 26 فیصد باہمی محصول کا سامنا کرنا پڑا، جو بعد میں 6 اگست کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 50 فیصد تک بڑھا دیا گیا، جو 27 اگست سے بھارت کی روسی تیل کی خریداریوں کو بنیاد بنا کر مؤثر ہوا۔
واشنگٹن میں پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی اکنامکس (پی آئی آئی ای) خبردار کرتا ہے کہ 2025 کے باہمی محصولات امریکا اور دنیا کی معیشت کی ترقی کو سست کر سکتے ہیں اور متاثرہ ممالک میں مہنگائی بڑھا سکتے ہیں، یہ محصولات ان ممالک کو زیادہ متاثر کرتے ہیں جو عالمی پیداوار اور تجارتی زنجیروں پر انحصار کرتے ہیں، کیونکہ محصولات خام برآمدی قیمت پر لگائے جاتے ہیں، جس میں درآمد شدہ اجزا بھی شامل ہیں۔
ایک اور واشنگٹن تھنک ٹینک، سی ایس آئی ایس، بتاتا ہے کہ باہمی کا لیبل درست نہیں ہے، یہ شرحیں ہر ملک کے ساتھ امریکا کے تجارتی خسارے کی بنیاد پر حساب کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات یہ شرحیں 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہیں، جو عام تلافی کے اقدامات سے کہیں زیادہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی ایشیائی ممالک پاکستان اور امریکا اور اور بھارت یہ معاہدہ کے ساتھ ہیں کہ
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنیکے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں امریکی طیاروں نے ایران عراق سرحدی علاقے شلمچہ بارڈرکراسنگ کو نشانہ بنایا جس میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں آنکھ کے بدلے آنکھ کی بنیاد پر جوابی کارروائیوں کی دھمکی دی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیکہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہیکہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا اگلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم