تجارت بحران بدستور برقرار، صرف ٹیرف پالیسی کافی نہیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
کراچی:
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران 2 اہم پیش رفتوں نے تجارتی پالیسی سازوں کو درپیش مشکلات کو نمایاں کر دیا ہے۔ اول بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ پہلے سے کمزور بیرونی کھاتوں پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات کی شرحِ نمو میں کمی ہے۔
مالی سال 2026 کے ابتدائی 4 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4 فیصد کم رہیں، جبکہ درآمدات میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چونکہ معیشت کی بحالی کے حالیہ منصوبوں میں برآمدات کے فروغ پر خاص زور دیا جا رہا ہے، اس لیے برآمدات میں یہ کمی متعلقہ حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
تجارتی خسارے کے باعث جاری کھاتوں (کرنٹ اکاؤنٹ) کا خسارہ بھی بڑھ کر پہلے چار ماہ میں 733 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 206 ملین ڈالر تھا۔
دوسری اہم پیش رفت یہ ہے کہ حقیقی موثر شرح تبادلہ (REER) اکتوبر 2025 میں بڑھ کر 103.
اس رجحان نے اس بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان دوبارہ بیرونی شعبے کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں۔موجودہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ 2022 میں عائد کی گئی درآمدی پابندیوں کا جائزہ لیا جائے، جب پاکستان ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران کا شکار تھا۔
مالی سال 2022 میں پاکستان نے 80 ارب ڈالر سے زائد کی درآمدات کیں، جبکہ برآمدات محض 31 ارب ڈالر تھیں، جس سے 49 ارب ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ پیدا ہوا۔
اس بحران کی چند بنیادی وجوہات پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، درآمدات کی نوعیت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 2022 کے بعد کے دور میں ایندھن سے متعلق مصنوعات تجارتی خسارے کا بڑا سبب بنیں۔
پاکستان میں ایندھن کی درآمدات مجموعی درآمدات کا 25 فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ کئی مشرقی ایشیائی ممالک میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے۔اس کے برعکس ان ممالک کی درآمدات زیادہ تر ٹیکنالوجی سے وابستہ مصنوعات پر مشتمل ہوتی ہیں جو پیداواری صلاحیت بڑھاتی ہیں اور انسانی وسائل کی ترقی میں مدد دیتی ہیں۔
جبکہ پاکستان کی درآمدی ٹوکری میں ایسے پیداواری اور تکنیکی مال کی کمی نظر آتی ہے۔دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ جون 2022 میں درآمدات کو کم کرنے کے لیے مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔
اگرچہ سال کے اختتام تک ان میں سے کئی پابندیاں ختم کر دی گئیں لیکن ان کے منفی اثرات صنعت اور تجارت پر دیرپا رہے۔
معاشی مشاورتی گروپ (EAG) کی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے درآمدات کم کرنے کے لیے نہ صرف مختلف آلات استعمال کیے بلکہ دیگر ممالک کی نسبت زیادہ سخت اقدامات کیے، جن کا نتیجہ کمزور معاشی ترقی اور موجودہ اقتصادی مسائل کی صورت میں نکلا۔
کرنسی کی قدر کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے ڈالر کی خریداری پر پابندیاں قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہیں۔ چونکہ پاکستان کے پاس ماضی میں بھی زرِمبادلہ کے محدود ذخائر رہے ہیں، اس لیے ایسے اقدامات تجارت کو غیر مستحکم بنا دیتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے بین الاقوامی تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے جامع اقدامات کرے۔ یہ اقدامات صرف قومی ٹیرف پالیسی 2025-2030 تک محدود نہ ہوں بلکہ غیر ٹیرف رکاوٹوں اور کاروباری اصلاحات کو بھی شامل کیا جائے۔
چونکہ پاکستان خطے اور دنیا میں تجارتی کھلے پن کے حوالے سے کم ترین سطح پر ہے، اس لیے نہ صرف پاکستانی صنعتکار عالمی منڈیوں تک رسائی سے محروم ہیں بلکہ صارفین کو بھی معیاری اور متنوع مصنوعات میسر نہیں آ رہیں۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر قیمتوں اور معیار پر پڑتا ہے۔ صرف ٹیرف پالیسی کافی نہیں ،ضروری ہے کہ ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو بین الاقوامی تجارت کو محدود کرنے کے بجائے اس کے فروغ کا باعث بنیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درا مدات برا مدات کے لیے کی درا
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔