پاکستان کی بھارتی وزیرِ دفاع کے سندھ سے متعلق اشتعال انگیز بیان پر شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستان نے بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے صوبہ سندھ سے متعلق وہم پر مبنی اور خطرناک حد تک توسیع پسندانہ بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق اس نوعیت کے بیانات ہندوتوا پر مبنی توسیع پسند سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو تسلیم شدہ حقائق کو چیلنج کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’سرحدیں بدل سکتی ہیں، سندھ کل بھارت کا حصہ بھی بن سکتا ہے‘، راجناتھ سنگھ کا متنازع بیان
’بھارتی وزیرِ دفاع کا بیان بین الاقوامی قانون، مستند سرحدوں اور ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔‘
????PR No.
Pakistan Strongly Condemns Indian Defense Minister Rajnath Singh's Remarks About Pakistan’s Sindh Province https://t.co/wdeTkEg3xY
????⬇️ pic.twitter.com/qeXY0JmXgj
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 23, 2025
پاکستان نے بھارتی قیادت، خصوصاً وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کے لیے زیادہ بہتر راستہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے ملک کے اندرونی چیلنجز خصوصاً اقلیتوں کی سلامتی اور اُن پر ہونے والے تشدد کے سدباب پر توجہ دے۔
مزید پڑھیں:بھارتی مسلمان نے پاکستان مخالف نعرہ لگانے سے انکار کردیا
’بھارت کو اُن عناصر کا احتساب کرنا چاہیے جو اقلیتوں کے خلاف نفرت، تعصب اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں، اور مذہبی تعصب و تاریخی مسخ شدگی پر مبنی امتیازی رویوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔‘
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کی اقوام اب بھی ریاستی سرپرستی میں تشدد، شناختی جبر اور مسلسل محرومی کا سامنا کر رہی ہیں، نئی دہلی کو چاہیے کہ وہ ان دیرینہ مسائل کے پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں مسلمانوں سے بدترین امتیازی سلوک پر مولانا ارشد مدنی کے انکشافات، بی جے پی تلملا اٹھی
پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ بھارت جموں و کشمیر کے تنازعے کے حقیقی اور مستقل حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کی پاسداری کرے۔
’پاکستان واضح کرتا ہے کہ وہ انصاف، مساوات اور بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تمام تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے، تاہم اپنی قومی سلامتی، آزادی اور خودمختاری کے دفاع سے ہرگز غافل نہیں ہوگا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بھارت ترجمان جموں وکشمیر راج ناتھ سلامتی کونسل سندھ وزارت خارجہ وزیر دفاع
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ بھارت جموں وکشمیر راج ناتھ سلامتی کونسل وزیر دفاع
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی