دبئی ایئر شو میں تباہ ہونے والا طیارہ 550 کروڑ روپے مالیت کا تھا، بھارتی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
دبئی ایئر شو کے دوران بھارت کا پہلا مکمل طور پر دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ ’تیجس‘ گر کر تباہ ہو گیا، جس میں ایک پائلٹ ہلاک ہو گیا، طیارے کی مالیت سامنے آنے کے بعد عوام حیران رہ گئی، مظاہرے کے دوران کرتب دکھاتے ہوئے اچانک زمین بوس ہو گیا اور جل کر خاکستر ہو گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہاکہ تیجس طیارے کی مجموعی کھیپ 83 یونٹس پر مشتمل ہے، جس کی مالیت 45,696 کروڑ بھارتی روپے بنتی ہے، اس کے حساب سے ہر ایک طیارے کی قیمت تقریباً 550 کروڑ روپے ہے جو بھارت کے دیگر موجودہ لڑاکا طیاروں سے نمایاں زیادہ ہے۔
تیجس طیارہ بھارت کا پہلا مکمل طور پر دیسی ساختہ لڑاکا ہے، جس کا 50 فیصد سے زائد حصہ بھارت میں تیار کیا گیا ہے، اس طیارے کی تیاری کئی دہائیوں تک تاخیر اور تکنیکی مشکلات کی شکار رہی، جس کی وجہ پیشہ ورانہ مہارت اور ضروری صلاحیتوں کی کمی بتائی جاتی ہے۔
ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل منموہن بہادر کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد سنہ 1983 میں رکھی گئی تھی، اور اس وقت سے لے کر اب تک کئی بار دعوے کیے گئے کہ طیارہ تیار ہو گیا ہے، لیکن عملی طور پر یہ منصوبہ بار بار تاخیر اور تکنیکی مسائل کا شکار رہا۔
بھارتی فضائیہ کے دعوے کے مطابق یہ طیارہ ہلکا، جدید ریڈار سے لیس اور 52 ہزار فٹ کی بلندی پر آواز کی رفتار سے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل طیارے کی ہو گیا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔