الیکشن کمیشن میں ذاتی حیثیت سے طلبی پر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن کی جانب سے ذاتی حیثیت میں طلب کیے جانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو دھمکیوں کے معاملے پر وکیل علی بخاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے بھی پیش ہوئے۔
وکیل علی بخاری نے بینچ کو آگاہ کیا کہ ایک ہی وقت میں ڈی آر او نے نوٹس کررکھا ہے۔ ایک ہی وقت میں 2 جگہ سے نوٹسز ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن بینچ کے ممبر کے پی کے نے ریمارکس دیے کہ جو یہاں پیش نہیں ہوئے وہ وہاں کون سا پیش ہوئے ہوں گے؟۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، الیکشن کمیشن نے رانا ثنا اللہ کو 24 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا
علی بخاری نے کہا کہ یہ بات کرنا زیادتی ہے۔ قانون کے مطابق میں وزیر اعلیٰ کی نمائندگی کررہا ہوں۔ چیف صاحب اپنے ممبر کو بتائیں کہ کیسے ریمارکس دینے ہیں۔ اس موقع پر علی بخاری نے ممبر کمیشن کے پی کے کے ریمارکس پر اعتراضات اٹھا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب آپ نے یہ کہہ دیا ہے تو کیا مجھے انصاف ملےگا؟۔
وکیل نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ایک اجلاس کی وجہ سے مصروف ہیں۔
چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی حاضری سے استثنا کی درخواست دی ہے، وہ ایک اجلاس میں ہیں۔ میری ابھی تک ان سے ملاقات نہیں ہوئی، ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔
انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کا غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام خطے میں استحکام کے لیے حقیقی خطرہ ہے،اسحاق ڈار
چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا وہ کے پی کے میں ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ایک میٹنگ تھی وہاں ہیں۔
اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی کی تفصیل بتائی کہ این اے 18 ہری پور سے عمر ایوب کی اہلیہ امیدوار ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابی مہم میں کوئی پبلک آفس ہولڈر شرکت نہیں کر سکتا۔ تشدد پر اکسانے یا دھمکانے کی بھی ممانعت ہے۔ وزیراعلیٰ نے چمبہ، حویلیاں میں جلسے سے خطاب کیا جو انتخابی حلقہ کی سرحد پر ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے انتخابی عملے کو دھمکایا۔ حلقے سے امیدوار شہرناز عمر ایوب بھی برابر قصور وار ہیں۔
ایچی سن کالج کے پرنسپل ڈاکٹر تراب حسین نے استعفیٰ دے دیا
وکیل علی بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ کیا سہیل آفریدی کے خلاف یہ نوٹس بنتا ہے؟ کیا ان کو یہ نہیں پتا کہ وزیراعلیٰ نے خطاب ہری پور نہیں ایبٹ آباد میں کیا ہے۔ ہری پور کے ساتھ والے خسرے میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے 3 ارب کا اسپتال دیا ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ حقیقت ہے وزیر اعلیٰ نے حویلیاں میں خطاب کیا۔ آج کی سماعت کا حکمنامہ جاری کریں گے ۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو آج کی عدم حاضری پر استثنا دے دیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے آج ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وفاقی وزیر کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ وفاقی وزیر کو آپ سے زیادہ سخت زبان میں نوٹس جاری کیا ہے۔
چاند نظر نہیں آیا، یکم جمادی الثانی 23 نومبر اتوار کو ہوگی
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر الیکشن کمیشن نے علی بخاری نے سہیل آفریدی ذاتی حیثیت وزیر اعلی نے کہا کہ کے پی کے کیا ہے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔