بیجنگ میں کاکروچ کافی کی دھوم، ’اتنی بھی گھِناؤنی نہیں جتنی سمجھی تھی‘
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
بیجنگ کے ایک کیڑوں کے میوزیم نے ایسا انوکھا تجربہ پیش کیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ میوزیم کے کیفے میں پیش کی جانے والی ’کاکروچ کافی‘ نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہورہی ہے، کیونکہ اس کافی میں پسے ہوئے کاکروچ پاؤڈر اور خشک یلو میل ورمز استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہ ڈرنک سن کر ہی بہت سے لوگ چونک جاتے ہیں، مگر تجسس رکھنے والے نوجوان روزانہ اس کے کئی کپ خرید رہے ہیں۔ ایک کپ کی قیمت تقریباً 45 یوان یعنی 550 روپے سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پولیس نے کافی چور طوطے کو دھر لیا
چین میں انوکھے مشروبات کا چلن پہلے بھی رہا ہے، کیونکہ کچھ کیفے اپنے ڈرنکس میں دیپ فرائیڈ کیڑوں سے لے کر مرچ پاؤڈر تک شامل کرتے رہے ہیں۔
میوزیم انتظامیہ کے مطابق چونکہ یہ ایک انسیٹ میوزیم ہے، اس لیے کیڑوں سے متعلق ڈرنکس بنانا ان کے خیال میں ایک ’قدرتی آئیڈیا‘ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کافی جون کے آخر میں متعارف کروائی گئی تھی اور حال ہی میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد اس کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
چینی ڈاکٹروں کے مطابق یلو میل ورمز پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں اور قوتِ مدافعت بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
میوزیم میں فراہم کی جانے والی دوسری انوکھی ڈرنکس میں پچر پلانٹ کے جوس پر مبنی کافی اور چیونٹی پاؤڈر سے بنی خصوصی ہالووین کافی بھی شامل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دنیا کی مہنگی ترین کافی، ایک کپ کی قیمت ہوش اڑا دے
کئی صارفین کے مطابق کاکروچ کافی کا ذائقہ جلا ہوا اور ہلکا سا کھٹا محسوس ہوتا ہے، جو میوزیم کے حشرات سے متعلق تھیم سے مطابقت رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس کافی کی بازگشت بڑھنے کے بعد بیجنگ کے فوڈ ولاگر چن شی نے بھی اس کافی کا ذائقہ آزمایا۔ ویڈیو میں وہ آنکھیں بند کرکے ایک گھونٹ لیتے ہیں اور حیرت سے کہتے ہیں، ’اِس قدر بُرا بھی نہیں جتنا میں نے سوچا تھا‘۔
تاہم بڑی تعداد میں صارفین اب بھی اس تجربے سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’پیسے بھی دے دیں تو بھی نہیں پیوں گا‘۔
کاکروچ کافی نے اگرچہ خوف اور تجسس دونوں کو ایک ساتھ جنم دیا ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عجیب و غریب مشروب نے نوجوانوں میں ایک نیا ٹرینڈ ضرور چلا دیا ہے، چاہے کتنے ہی لوگ کانپتے ہوئے اس سے دور کیوں نہ رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیجنگ چین سوشل میڈیا کاکروچ کافی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین سوشل میڈیا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :