Express News:
2026-06-03@06:58:04 GMT

ہڈیاں آپ کی توجہ چاہتی ہیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

آرتھوپیڈک ڈاکٹر (ہڈیوں کے معالج)ان سب لوگوں سے خفا رہتے ہیں جو یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ روزانہ اپنے ساتھ ایک نہایت اہم ڈھانچہ لیے پھرتے ہیں۔ ہم اپنی پسلیاں، ریڑھ کی ہڈی یا بازو کی ہڈیاں تو دیکھ نہیں سکتے پھر بھی ان کی حالت عمدہ رکھنے کو اولیّں ترجیح دینا ضروری ہے کہ یہ ہماری مجموعی صحت کے ہر پہلو سے جڑی ہیں۔ہڈیوں کی صحت کا خیال نہ رکھنے پر ہر سال دنیا میں کروڑوں مردزون آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کے بھربھرے پن)، کمزور ہڈیوں یا دونوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔امراض ہڈی میں مبتلا ہو کر لاکھوں افراد فریکچر بھی کرا بیٹھتے ہیں۔

ایسی صورت میں صحت یابی اور بحالی کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔اس دوران آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ فعال نہیں رہ سکتے۔ سفر نہیں کر پاتے، ورزش نہیں کر سکتے اور دل کی صحت بھی کمزور ہوتی ہے۔ میٹابولک مسائل سمیت دیگر بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔غرض ہڈیوں کی بیماری کا خطرناک سلسلہ مستقبل میں بڑی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ایک انسان کی عمر جب بیس کی دہائی کے وسط میں ہو تو ہڈیوں کی کثافت اپنی انتہا پر ہوتی ہے۔اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ کم ہوتی ہے۔ اس سے آسٹیوپینیا عمل پیدا ہو سکتا ہے یعنی ہڈیوں کی کثافت میں ایسی کمی جو مکمل طور پر آسٹیوپوروسس پیدا نہ کرے مگر فریکچر کے زیادہ خطرے سے جڑی ہو۔ ایک بار جب آسٹیوپوروسس ہو جائے تو ہڈیاں معمولی حادثات سے بھی ٹوٹنے لگتی ہیں۔لیکن یہ ایک خاموش بیماری ہے، اکثر لوگ اسی وقت جان پاتے ہیں جب ان کی ہڈیاں ٹوٹنا شروع ہو جائیں۔اسی پس منظر میں ہڈیوں کی صحت محفوظ رکھنے کے لیے آرتھوپیڈک ماہرین کے مشورے درج ذیل ہیں۔

حرکت میں رہیں

لوگ ہڈیوں کو جسم کا جامد حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ دراصل متحرک ہیں۔ پرانی ہڈیاں مسلسل ٹوٹتی اور خون میں جذب ہوتی ہیں اور نئی ہڈیاں بنتی رہتی ہیں۔ اس عمل کو "ری ماڈلنگ" کہا جاتا ہے جس پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ان میں وزن اٹھانے والی ورزش سے پیدا ہونے والا میکانیکی دباؤ بھی شامل ہے۔مثال کے طور پر چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، کھیل کھیلنا ، پْش اَپس کرنا اور رسی کودنا۔

ڈاکٹر جیک اسٹیل امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ سینٹ جوزف میڈیکل سینٹر میں آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔کہتے ہیں’’جہاں ہڈی پر دباؤ پڑے وہاں ہڈیوں کی کثافت بڑھتی ہے۔ اور جہاں ہڈیوں پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا، وہاں جسم اْس ہڈی کو تحلیل کرنے لگتا ہے اور یوں ہڈیوں کی کثافت کم ہو جاتی ہے جو آسٹیوپینیا یا آسٹیوپوروسس کا سبب بن سکتی ہے۔

اگرچہ یہ بیماریاں واپس نہیں پلٹ سکتیں لیکن مختلف ادویات کے ذریعے قابلِ علاج ہیں اور ان کی بڑھوتری کو سست کیا جا سکتا ہے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔مریض اکثر ڈاکٹر اسٹیل سے پوچھتے ہیں کہ انہیں کتنی ورزش کرنی چاہیے؛ کچھ لوگ روزانہ 30 منٹ چلنا پسند کرتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ ہفتے کے آخر میں دو گھنٹے ٹینس کھیل لیتے ہیں۔ دونوں طریقے مؤثر ہیں۔ وہ مریضوں کو بتاتے ہیں کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ باقاعدگی اختیار کریں اور جتنا ممکن ہو سکے حرکت میں رہیں، بجائے اس کے کہ کئی دن بغیر کسی جسمانی سرگرمی کے گزر جائیں۔

سن یاس کا دور

تحقیقات بتاتی ہے کہ سن یاس ہڈیوں کی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس سے ہڈیوں کی کثافت کم ہو سکتی ہے جس سے آسٹیوپوروسس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسٹروجن میں کمی کے باعث بھی پٹھوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس نقصان کا مقابلہ کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے: وزن اٹھانا۔ڈاکٹر پامیلہ مہتا امریکی شہر سان ہوزے، کیلیفورنیا میں ریزیلینس آرتھوپیڈکس کمپنی کی بانی اور آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ کہتی ہیں:

‘‘یہ خواتین کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی ورزش میں طاقت بڑھانے والی ورزش شامل کریں، کیونکہ سن یاس اور اس کے قریب کے برسوں میں پٹھوں اور ہڈیوں کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔وزن اٹھانے کی ورزشیں کرنے کے سلسلے میں یوٹیوب پر دستیاب مستند ڈاکٹروں کی ویڈیوز سے مدد لیجیے۔‘‘

دو بنیادی غذائی اجزا

کئی معدنیات اور غذائی اجزاہڈیاں مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے ہیںلیکن دو پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے:اول کیلشیم جو صرف غذا یا سپلیمنٹس سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اسے مناسب مقدار میں نہ لیں تو جسم اسے ہڈیوں سے لینے لگتا ہے جس سے ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں۔دوم وٹامن ڈی جو جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا اور آسٹیوپوروسس سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈاکٹر شاؤ کے مطابق:’’ان دونوں کی اچھی مقدار لینا بہت ضروری ہے۔‘‘

عمر کے حساب سے زیادہ تر بالغوں کو روزانہ 1000 سے 1200 ملی گرام کیلشیم اور 15 سے 20 مائیکروگرام وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔کیلشیم حاصل کرنے کے لیے وہ مشورہ دیتے ہیں کہ دودھ، پنیر، دہی، گہرے سبز پتوں والی سبزیاں جیسے کیل اور سویا مصنوعات ( ٹوفو) استعمال کریں۔وٹامن ڈی کچھ مقدار میں ٹونا، سارڈین، سالمن، پنیراور انڈے کی زردی میں ملتا ہے۔

روزانہ دھوپ لیجے

دھوپ سینکنا ہڈیوں کی صحت کے لیے بہترین ہے۔ ڈاکٹر اسٹیل کہتے ہیں:’’جب سورج کی روشنی آپ کی جلد پر پڑے تو جسم وٹامن ڈی پیدا کرتا ہے۔ آپ اپنی خوراک سے بھی کچھ وٹامن ڈی لے سکتے ہیں، لیکن اس کی زیادہ مقدار سورج کی روشنی سے حاصل ہوتی ہے۔‘‘یقیناً سورج کے مضر اثرات بھی ہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ اس وقت باہر جائیں جب یو وی انڈیکس 8 سے کم ہو، یعنی صبح سویرے یا شام کے وقت اور ہمیشہ سن اسکرین لگائیں۔وہ مزید کہتے ہیں:’’گھنٹوں باہر رہنے کی ضرورت نہیں ۔ یہاں تک کہ 30 منٹ باہر چلنے اور دھوپ میں رہنے سے بھی وٹامن ڈی پیدا ہوجاتا ہے۔ ساتھ ساتھ دھوپ میں چہل قدمی وزن اٹھانے والی ورزش بھی ہے یعنی ہڈیوں کے لیے دوہرا فائدہ۔‘‘

کیلشیم اور وٹامن ڈی سپلیمنٹس

 اگر آپ کیلشیم یا وٹامن ڈی کافی مقدار میں نہیں لے رہے تو سپلیمنٹس فائدے مند ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر کرسٹین جابلونسکی امریکی ادارے، اورلینڈو ہیلتھ میں ہڈیوں کی صحت اور آسٹیوپوروسس پروگرام کی سربراہ ہیں۔ مشورہ دیتی ہیں کہ ایک ’’فوڈ ڈائری‘‘ رکھیں۔ کہتی ہیں:’’آپ اسے دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عام دن میں کیا کھاتا/کھاتی ہوں؟اگر آپ روزانہ کم از کم 1000 ملی گرام کیلشیم لے رہے ہیں تو آپ کی حالت اچھی ہے۔ اگر آپ مسلسل اس سے کم مقدار لے رہے تو اپنی خوراک میں تبدیلیاں کیجیے یا اپنے ڈاکٹر سے سپلیمنٹس کے بارے میں بات کریں۔‘‘

ڈاکٹر جابلونسکی مانتی ہیں کہ وٹامن ڈی کا حساب رکھنا نسبتاً مشکل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس کا زیادہ حصہ سورج کی روشنی سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں:’’بہت سے لوگ اس کی کمی کا شکار ہوتے ہیں مگر انہیں علم نہیں ہوتا۔‘‘اگر آپ کو پہلے ہی آسٹیوپوروسس ہے تو ڈاکٹر کو باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے آپ کے جسم میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی سطح چیک کرنی چاہیے۔ اگر آپ کا حالیہ ٹیسٹ نہیں ہوا، تو اگلے معائنے پر لازماً اس کا ذکر کریں، خاص طور پر اگر آپ ہڈیوں میں درد، تھکن یا مزاج میں تبدیلی جیسی علامات محسوس کرنے لگیں۔

 ادویات چیک کریں

کچھ دوائیں ہڈیوں کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر:

٭ پروٹون پمپ انہیبیٹرز (جو ہارٹ برن کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں)

٭ سیلیکٹیو سیروٹونن ریسیپٹر انہیبیٹرز (اینٹی ڈپریشن ادویات)

٭ اینٹی کنولسنٹس (دورے قابو کرنے کی دوائیں)

٭ گلوکوکورٹیکوئڈز (اسٹرائیڈ ہارمون)

٭ خون پتلا کرنے والی دوا ہیپرین

ڈاکٹر جابلونسکی کہتی ہیں:’’اگر یہ دوائیں ضروری ہیں تو آپ کو لینی پڑیں گی۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنے ڈاکٹر سے کسی متبادل دوا پر بات کریں، یا انہیں کم عرصے کے لیے استعمال کریں۔ وہ مشورہ دیتی ہیں:’’ہمیشہ سوال پوچھیں اور معتبر ذرائع سے اپنی تحقیق کریں۔‘‘

 الکحل، کیفین اور سگریٹ نوشی

 کیفین یا الکحل لینے کی عادت ہڈیوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر اسٹیل کہتے ہیں’’یہ چیزیں بنیادی طور پر جسم کی شفا پانے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہیں۔ ہڈی ہمیشہ ٹوٹتی اور بنتی رہتی ہے۔ زیادہ کیفین یا الکحل کا استعمال یہ عمل متاثر کرتا اور وقت کے ساتھ ہڈیوں کی کثافت میں کمی لاتا ہے۔‘‘

سگریٹ نوشی کے بھی یہی اثرات ہیں: تحقیق کے مطابق وہ بزرگ افراد جو سگریٹ پیتے ہیں، ان کے کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے امکانات 30 سے 40 فیصد زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ان لوگوں کے جو نہیں پیتے۔سگریٹ نوشی نہ صرف آسٹیوپوروسس کا خطرہ بڑھاتی بلکہ ہڈی بنانے والے خلیات کی پیداوار بھی سست کرتی ہے۔ کیلشیم کے جذب ہونے کی مقدار کم کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر مہتا کا کہنا ہے کہ بعض سرجن تو سگریٹ نوش مریضوں کا آپریشن کرنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں، کیونکہ سگریٹ نوشی سرجری کے بعد ہڈی جْڑنے کا عمل متاثر کرتی ہے اور ان مریضوں میں پیچیدگیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔اسی لیے بہتر ہے کہ آپ سگریٹ نوشی چھوڑنے کی کوشش کریں،چاہے آپ نے پہلے کوشش کی ہو اور ناکام ہوئے ہوں۔

گرنے کا خطرہ

 ہڈیوں کا خیال رکھنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ گرنے کے امکانات کم کرنے کے اقدامات کریں۔ ڈاکٹر شاؤ کہتے ہیں’’خاص طور پر جیسے جیسے عمر بڑھے، آپ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ گھر کس طرح ترتیب دیا گیا ہے تاکہ گرنے کا خطرہ کم ہو سکے۔‘‘اس کے لیے آپ یہ کر سکتے ہیں:

٭ راستوں سے ڈبے اور برقی تاریں ہٹا دیں

٭ غسل خانے میں پھسلن روکنے والی چٹائیاں استعمال کریں

٭ فرش کے تختے مرمت کریں

٭ راہداریوں میں نائٹ لائٹس لگائیں

ڈاکٹر شاؤ امید کرتے ہیں کہ زیادہ لوگ اپنی ہڈیاں مضبوط اور صحت مند رکھنے کو ترجیح دیں گے۔ وہ کہتے ہیں:’’میں چاہتا ہوں، لوگ ہڈیوں کی صحت کو نظرانداز نہ کریں۔ ظاہری چیزوں کے بارے میں سوچنا اور انہیں محسوس کرنا آسان ہے۔ لیکن آپ کا ڈھانچا (skeleton) ہی بنیاد ہے…آپ کے پورے جسم کی ساختی مدد۔ ہم جانتے ہیں کہ ہڈیوں کی صحت کا اثر صرف ان تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ انسان کی مجموعی تندرستی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔‘‘  

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہڈیوں کی صحت سگریٹ نوشی کہتے ہیں ہوتے ہیں سکتے ہیں کہتی ہیں ضروری ہے وٹامن ڈی پیدا ہو ہوتی ہے سکتا ہے کا خطرہ اگر ا پ کی ہڈی کے لیے ہیں کہ سے بھی اور ان

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری