جن لوگوں کے دانے نکلتے رہیں، اْن کی جلد عموماً زیادہ چکنی ہوتی ہے۔اس وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ تیل والی غذائیں جیسے پیزا یا برگر مہاسوں کا باعث بنتی ہیں۔ یونیورسٹی آف ناٹنگھم کی میڈیکل ڈرماٹولوجسٹ، ڈاکٹر روزالِنڈ سمپسن کہتی ہیں: ‘‘لوگ سوچتے ہیں کہ چکنی غذا کھانے سے جلد پر تیل بڑھ جاتا ہے جو مہاسے پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے لیکن یہ غلط فہمی ہے۔ جلد پر موجود تیل یعنی مساموں سے نکلنے والا سیبم زیادہ تر ہارمونز اور جینیات سے متاثر ہوتا ہے۔
مہاسوں کی بنیادی وجہ اینڈروجن (مردانہ جنسی ہارمون) میں اضافہ ہے جو بلوغت کے دوران مردوں اور عورتوں، دونوں میں بڑھ جاتا ہے۔ اس سے سیبم کی پیداوار بھی بڑھتی ہے اور جب یہ تیل جلد کے مردہ خلیوں کے ساتھ ملتا ہے تو مسام بند ہوسکتے ہیں۔ یہ چکنا ماحول بیکٹیریا کی ایک قسم (Propionibacterium acnes) کو بڑھنے کا موقع دیتا ہے جو قدرتی طور پہ جلد پر موجود ہوتے ہیں۔ اس سے سوزش پیدا ہوتی ہے اور جو دانے پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔۔ دیگر ہارمونی تبدیلیاں جیسے پولی سسٹک اووری سنڈروم (polycystic ovary syndrome) یا صرف پروجیسٹرون پر مبنی مانع حمل ادویات بھی وجہ بن سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سمپسن کے مطابق ماحولیاتی عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ اس میں چکنی غذا کھانا شامل نہیںلیکن پریشانی( اسٹریس)کی سطح اور مجموعی طور پر ہماری خوراک شامل ہوسکتی ہے۔گزشتہ صدی کے دوران مہاسے زیادہ عام ہوگئے ہیں۔ کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس اضافے کا تعلق ہائی گلیسیمک انڈیکس والی غذاؤں سے ہوسکتا ہے جیسے سادہ کاربوہائیڈریٹس اور میٹھی چیزیں۔ اگرچہ سمپسن اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کچھ حتمی نہیں کہا جاسکتا۔بہرحال اس امر کے ابھرتے شواہد موجود ہیں کہ ریفائنڈ شوگرز اس میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ محققین آنتوںکی صحت اور جلد کی صحت کا باہمی تعلق سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر آپ مہاسوں سے نمٹ رہے ہیں اور صابن سے پاک کلینزرز اور موئسچرائزرز سے بھی افاقہ نہیں ہوا، تو بہتر ہے کہ جلد کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ سمپسن کہتی ہیں: ‘‘لوگ مہاسوں کے علاج کے لیے اپنی غذا بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بعض غذائیں طبی نگرانی میں نہ لی جائیں تو وہ مزید دانے و مہاسے نکلنے کا سبب بن سکتی ہیں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہیں کہ
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب