ڈاکٹر مسعود اختر 4 سال کیلئے بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ڈاکٹر مسعود اختر(فائل فوٹو)۔
ڈاکٹر مسعود اختر کو 4 سال کے لیے یونیورسٹی آف بلتستان کا مستقل وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا ہے۔
جامعہ بلتستان کی سینٹ نے تین نام ایوان صدر کو بھیجے تھے جس میں پہلا نمبر ڈاکٹر ساجد رشید کا، دوسرا ڈاکٹر مسعود اختر اور تیسرا نمبر ڈاکٹر محمد نعیم خان کا تھا۔
یاد رہے کہ تلاش کمیٹی نے یونیورسٹی آف بلتستان کے لیے پانچ ناموں کا انتخاب کیا تھا جس میں ڈاکٹر محمد علی شاہ اور ڈاکٹر طاہر خلیلی ٹاپ پر تھے، تاہم جب یونیورسٹی کے سینیٹ کا اجلاس ہوا تو ڈاکٹر محمد علی شاہ جامعہ پنجاب اور ڈاکٹر طاہر محمد خلیلی نے خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کے وائس چانسلرز مقرر ہونے کی وجہ سے دونوں نے معذرت کرلی تھی۔
جس کے بعد ترتیب میں تبدیلی کر کے ڈاکٹر ساجد رشید، ڈاکٹر مسعود اختر اور ڈاکٹر محمد نعیم خان کے ناموں کی منظوری دی گئی تھی۔
ڈاکٹر مسعود اختر نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعرات کو اسکردو پہنچیں گے، تاہم انھوں نے بتایا کہ وہ بدھ کو اسلام آباد کیمپس آفس میں اپنے عہدے کا چارج سنبھال چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مسعود اختر ڈاکٹر محمد
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔