بھارتی فورسز نے سرینگر میں ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ سمیت متعدد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
چھاپے کے دوران فورسز اہلکاروں نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر کے سپر اسپیشلٹی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ڈاکٹر عمر فاروق بٹ اور ان کی اہلیہ شہزادہ اختر کو حراست میں لے لیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں میں متعدد کشمیریوں کو گرفتار کر لیا جن میں ایک ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق کائونٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) اور بھارتی پیراملٹری کے اہلکاروں نے شہر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا۔ چھاپے کے دوران فورسز اہلکاروں نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر کے سپر اسپیشلٹی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات ڈاکٹر عمر فاروق بٹ اور ان کی اہلیہ شہزادہ اختر کو حراست میں لے لیا۔فوجیوں نے ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، بینک کی دستاویزات اور کتابیں بھی ضبط کر لیں۔ سی آئی کے عہدیداروں نے شہزادہ اختر کی گرفتاری کا جواز پیش کرنے کے لئے ان پر تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کرنے والی خواتین کی تنظیم دختران ملت کے ساتھ روابط کا الزام لگایا۔
دختران ملت کی رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین 2017ء سے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میںن ظربند ہیں۔ بھارتی فورسز نے سرینگر، کولگام اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ کشمیری سول سوسائٹی گروپوں نے تازہ ترین گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں سیاسی امنگوں کو جرم بنانے کے لئے پیشہ ور طبقے یعنی ڈاکٹروں، ماہرین تعلیم اور دیگر عوامی شخصیات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بھارتی فورسز ان چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کرتی ہیں کیونکہ انہیں کالے قوانین کے تحت مکمل استثنیٰ حاصل ہے اور سنگین جرائم کے باوجود ان سے کوئی جواب طلبی نہیں کی جا سکتی۔ دریں اثناء بھارتی پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے جموں کے شری مہاراجہ گلاب سنگھ اسپتال میں عملے اور ڈاکٹروں کے لاکرز کی تلاشی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور ان کی اہلیہ بھارتی فورسز کے دوران
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز