اداروں میں بدعنوانی ہوتی ہے، نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں زمین کے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے اور کہا کہ سی ڈی ے اپنا کام نہیں کرسکتا تو ایف آئی اے کو بھیج دیں، اداروں میں بد عنوانی ہوتی ہے ویری فیکیشن کا تو کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بد قسمتی سے یہ نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہی ہے، سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسر تنخواہ بھی لیتے ہیں اور رشوت بھی لیتے ہیں۔
2021 مین آپ نے حق میں فیصلہ دے کر آگئے پروسیس نہیں کیا، ریکارڈ نہیں ہے تو تصور کر لیں سب کچھ جعلی ہے؟۔
درخواست گزار روسٹرم پر آگئے اور مؤقف اپنایا کہ میں نے امانت داری سے نوکری کی ہے، اب کیا رشوت دوں؟تیسری نسل چل رہی ہے لیکن یہ فیصلہ نہیں ہورہا، میرے والد کیس لڑتے لڑتے مر گئے۔
عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔