اسلام آباد ہائی کورٹ میں زمین کے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے اور کہا کہ  سی ڈی ے اپنا کام نہیں کرسکتا تو ایف آئی اے کو بھیج دیں، اداروں میں بد عنوانی ہوتی ہے  ویری فیکیشن کا تو کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بد قسمتی سے  یہ نظام میں لڑائی ہی حرام کھانے کی ہی ہے، سرکاری دفاتر میں بیٹھے افسر تنخواہ بھی لیتے ہیں اور رشوت بھی لیتے ہیں۔

2021 مین آپ نے حق میں فیصلہ دے کر آگئے پروسیس نہیں کیا، ریکارڈ نہیں ہے تو تصور کر لیں سب کچھ جعلی ہے؟۔

درخواست گزار روسٹرم پر آگئے اور مؤقف اپنایا کہ میں نے  امانت داری سے نوکری کی ہے، اب کیا رشوت دوں؟تیسری نسل چل رہی ہے  لیکن یہ فیصلہ نہیں ہورہا، میرے والد کیس لڑتے لڑتے مر گئے۔

عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم