عمران خان نے جیل سے باہر آنے سے انکار کیوں کیا؟ رانا ثنا نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ 26 نومبر 2024 کے پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کو آفر کی گئی تھی کہ وہ سنگجانی میں بیٹھے، حکومت اس کے ساتھ وہاں مذاکرات کرے گی، پھر پی ٹی آئی یا عمران خان اس بات سے پیچھے ہٹ گئے، یعنی عمران خان نے کہا کہ انہوں نے جیل سے باہر نہیں آنا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی عمران خان کی رہائی چاہتے تھے، بانی کا سنگجانی پر رکنے کا حکم نہ مان کر ہم تباہ ہوگئے، علی امین گنڈاپور
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے الفاظ کا چناؤ درست نہیں کیا، جب پی ٹی آئی کا 26 نومبر 2024 کا دھرنا ہورہا تھا تو اس وقت پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے نے واپڈا دفاتر پر حملے کر دیے، اس نے وہاں پر عملے کو مارا بھی اور خود ہی بجلی چلادی، اس واقعے پر فیڈرل لیول پر یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس پر کارروائی کی جائے اور ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے محسن نقوی سے بات کی اور پھر محسن نقوی کے کہنے پر کارروائی نہیں ہوئی اور لوگوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، اس کے بعد ان کو کہا گیا تھا کہ آپ ڈی چوک نہ جائیں، آپ سنگجانی چلے جائیں، آپ وہاں پر بیٹھ جائیں تو آپ کے ساتھ وہاں بات کی جائے گی، وہ ایک سنجیدہ کوشش تھی اور اس کوشش میں ہم بھی شامل تھے، پی ٹی آئی کی قیادت بھی اس بات پر متفق تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے عمران خان کو بنی گالہ منتقلی کا حکم دیا تو حکومت اسے تسلیم کرے گی، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھی کوشش تھی، جس میں محسن نقوی نے کردار ادا کیا، اگر اس بات کو آگے بڑھایا جاتا تو معاملات آگے بڑھ جاتے، باتیں ہوتی ہیں کہ رات کو کیسے گیٹ کھلا، وغیرہ وغیرہ، یہ سارا کچھ ہوا تھا، پھر پی ٹی آئی یا عمران خان اس بات سے پیچھے ہٹ گئے، یعنی عمران خان نے کہا کہ انہوں نے جیل سے باہر نہیں آنا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ لیڈر شپ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک جماعت کا چیئرمین بن گیا تو وہ لیڈر ہے، بلکہ لیڈر وہ ہے جو صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرے، پی ٹی آئی کو اس وقت صحیح فیصلہ کرنا چاہیے تھا، عمران خان کو غلط بتایا جا رہا تھا کہ پورا ملک ان کے لیے سڑکوں پر نکل رہا ہے، عوام اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کے لیے تیار ہیں، دوسری طرف ان کو مشورہ دیا جا رہا تھا جس میں محسن نقوی شامل تھے کہ آپ ایسا نہ کریں، محسن نقوی نے انہیں کہا کہ آپ سنگجانی بیٹھیں، جہاں پہ ہم آپ سے بات کریں، ڈی چوک نہ جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی تھا کہ اس بات
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔