وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد رمضان سہولت بازار کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے علاقے جی سکس لیس میں کیش لیس رمضان سہولت بازار کا دورہ کیا۔
جی سکس آبپارہ میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ کرتے ہوئے محسن نقوی نے سبزیوں، پھلوں اور اشیائے ضرویہ کے سٹالز کا معائنہ کیا، جس میں اشیائے خوردونوش کی کوالٹی اور قیمتوں کا جائزہ جبکہ انہوں نے انتظامیہ کو ریٹ لسٹ نمایاں آویزاں کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
وزیر داخلہ نے رمضان بازاروں میں صفائی اور سکیورٹی انتظامات بہتر بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے مختلف سٹالز کا دورہ کیا، شہریوں سے ملے اور کوالٹی و قیمتوں کے بارے میں پوچھا جس کے جواب میں بعض شہریوں کی جانب سے ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت کی گئی۔
پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ہوائی فائرنگ اور پتنگ بازی پر پابندی عائد
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ "ریٹ واضح طور پر لکھ کر آویزاں کریں تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ بازار ریٹ اور آپ کا ریٹ کیا ہے"، عوام کو سستی اور معیاری اشیاء فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، عوامی ریلیف میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے رمضان سہولت بازار کے انتظامات پر وزیرِ داخلہ کو بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ جی سکس رمضان بازار میں کچھ نجی کمپنیوں کے سٹالز بھی قائم ہیں جبکہ رمضان بازار صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک کھلا رہے گا۔
برائلر مرغی کی قیمت میں اضافہ
رمضان بازار میں منڈی ریٹ کے مطابق اشیاء کی فروخت یقینی بنانے کیلئے خصوصی مانیٹرنگ میکنزم فعال کیا گیا ہے۔
چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈی جی انفورسمنٹ، سسٹنٹ کمشنر اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔