رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کیخلاف درخواست غیر مؤثر ہونے پر خارج
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
لاہور ( نیوزڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کے خلاف جاری نوٹس کے معاملے پر دائر درخواست کو غیر مؤثر قرار دے کر نمٹا دیا۔
جسٹس شجاعت علی خان نے رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کے خلاف دیئے گئے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت کی، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشلائزیشن کی غیرحاضری پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر عمیر کو پیش نہ ہونے پر معطل کر دیا گیا ہے، ڈی جی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
دوران سماعت جسٹس شجاعت علی خان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت آپ کو طلب نہیں کرنا چاہتی، آپ کی عزت کرتے ہیں جس پر ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے عدالت کی جانب سے عزت افزائی پر شکریہ ادا کیا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رانا شمشاد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کی پراپرٹی کو ڈی سیل کر دیا گیا ہے جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں کیخلاف دائر درخواست کو غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمیوں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔