زندگی بچانے والی ادویات: آئینی عدالت نے ڈریپ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
زندگی بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی اور رجسٹریشن سے متعلق مقدمے کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ زندگی بچانے والی 41 ادویات کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جن میں سے 30 ادویات رجسٹرڈ کی جاچکی ہیں، تاہم اب بھی متعدد اہم ادویات کی دستیابی اور معلومات واضح نہیں ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ڈریپ نے گزشتہ سماعت میں ادویات کی دستیابی کا ڈیٹا اپنی ویب سائٹ پر فراہم کرنے کا کہا تھا، لیکن آج بھی کئی ادویات کی تفصیلات ویب سائٹ پر موجود نہیں۔
انہوں نے استدعا کی کہ ویب سائٹ کا ڈیٹا باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ عوام کو زندگی بچانے والی ادویات کی موجودگی کے بارے میں درست معلومات دستیاب رہیں۔
سماعت کے دوران آئینی عدالت کے طلب کرنے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان بھی پیش ہوئے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار عوامی مفاد کا مقدمہ لے کر آیا ہے، حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی فراہمی کے نظام کا ازخود جائزہ لے کراس میں بہتری لائے۔
ڈریپ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شوگر سمیت مختلف ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جارہا ہے جبکہ زندگی بچانے والی ادویات سے متعلق معلومات ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
تاہم عدالت نے ڈریپ سے ادویات کی دستیابی پر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادویات چیف جسٹس امین الدین خان ڈریپ ڈیٹا عدم دستیابی ویب سائٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادویات چیف جسٹس امین الدین خان ڈریپ ڈیٹا عدم دستیابی ویب سائٹ ادویات کی ویب سائٹ
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔