پنچاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی کی درخواست، ملازمین کو وکیل کرنے کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے پنچاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو وکیل کرنے کی مہلت دے دی۔
آئینی عدالت کے جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل بینچ نے پنچاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی کی درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت درخواست گزار ملازمین ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ آئینی عدالت نے بغیر وکیل کیس میں حکم امتناع کی فوری استدعا مسترد کر دی۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ہمیں تحفظ دے، ڈیپارٹمنٹ میں ہماری گیٹ انٹری بند ہو جائے گی۔
وفاقی آئینی عدالت کے بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر دو میں سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔
جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ اوور اسمارٹ نہ بنیں، گیٹ انٹری کے علاوہ اور بھی کچھ بند ہوسکتا ہے، پہلے اپنا وکیل کریں ورنہ ہم ابھی درخواست مسترد کر دیں گے۔
درخواست گزار نے کہا کہ پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی اپیل منظور ہوئی تھی اس کے خلاف آئینی درخواست ہے۔ جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ اپنا وکیل کریں، وکیل کے ساتھ عدالت آئیں۔
درخواست گزار ملازمین نے استدعا کی کہ عدالت آئندہ سماعت تک ہمیں تحفظ فراہم کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کرے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں، اپنا وکیل کریں اور آئندہ سماعت میں وکیل کے ساتھ آئیں۔
عدالت نے درخواست گزاروں کو وکیل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس حسن اظہر رضوی ریونیو ڈیپارٹمنٹ درخواست گزار آئینی عدالت نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔